.

عراقی فورسز کا الرمادی کے نواحی علاقوں پر دوبارہ قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سکیورٹی فورسز نے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی کے شمال اور مغرب میں واقع بعض علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو پسپا کردیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے مئی سے الرمادی پر قبضہ کررکھا ہے اور ان کے خلاف دوہزار عراقی فوجی اور شیعہ ملیشیاؤں کے جنگجو حصہ لے رہے ہیں۔انھیں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کی فضائی مدد حاصل ہے۔

الانبار آپریشنز کمان کے ایک بریگیڈئیر جنرل نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ عراقی فوج نے الرمادی کے نواحی علاقوں زنخرہ ، البو جلیب ، العدنانیہ اور البو ریشہ کے بعض حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ علاقہ شہر سے پانچ کلومیٹر دور واقع ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے الرمادی کے مغرب میں واقع ایک مرکزی شاہراہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہ اس کے ذریعے اب شہر کو آزاد کرانے پر مامور فورسز کو کمک پہنچا رہی ہیں۔

عراقی فوج کی الرمادی کو آزاد کرانے کے لیے پیش قدمی میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔اتحادی طیاروں نے اکتوبر کے آغاز کے بعد سے الرمادی پر ستائیس فضائی حملے کیے ہیں۔

الانبار کی صوبائی کونسل کے ایک رکن فضل الفہداوی کا کہنا ہے کہ اگر جنگی کارروائیاں اسی رفتار سے جاری رہتی ہیں تو اس ماہ کے اختتام تک الرمادی کی آزادی متوقع ہے۔شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ترجمان احمد الاسعدی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ آیندہ چند روز میں الرمادی کو آزاد کرا لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ الاسعدی اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے مئی کے وسط میں داعش کے الرمادی پر قبضے کے وقت کہا تھا کہ شہر کو آیندہ دنوں میں دوبارہ فتح کر لیا جائے گا لیکن پانچ ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ داعش کو شکست نہیں دے سکے ہیں۔

عراقی حکومت اور فوج نے اس پر تیز رفتاری سے دوبارہ قبضے کے لیے منصوبہ بندی کی تھی لیکن داعش کے جنگجوؤں نے اب تک سرکاری فوج کی سخت مزاحمت کی ہے۔داعش نے الرمادی کے دفاع کے لیے حصاریں قائم کررکھی ہیں اور شہر کے گردا گرد بارودی سرنگیں بھِ نصب کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ عراقی فوجی الرمادی میں شکست کے بعد اپنے ہتھیار اور سازوسامان بھی چھوڑ کر بھاگ گئے تھے جس پر داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا تھا۔اس شہر کے سقوط کو عراقی سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی شکست اور ہزیمت قرار دیا گیا تھا۔عراقی فورسز کے اس طرح میدان جنگ سے راہ فرار پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزیردفاع ایش کارٹر نے کہا تھا کہ انھوں نے داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے میں زیادہ تعداد کے باوجود شکست کھائی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں لڑائی کے لیے عزم کی کمی تھی۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے الرمادی پر داعش کے قبضے کے بعد شیعہ ملیشیاؤں کو سنی اکثریتی صوبے الانبار کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عراقی فوج کی مدد کی ہدایت کی تھی۔ماضی میں شیعہ ملیشیاؤں نے شمالی شہر تکریت اور بعض دوسرے علاقوں کو داعش کے قبضے سے چھڑوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔تاہم انسانی حقوق کے گروپ ان پر لوٹ مار ،املاک کو تباہ کرنے اور انتقامی حملوں کے الزامات عاید کرتے رہے ہیں۔