فلسطینی تنظیمیں انتفاضہ کی مشترکہ قیادت تشکیل دیں: مشعل

یہودی آبادکاروں اور اسرائیل کی مسلح اور غیر مسلح ہر شکل میں مزاحمت کی جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حماس کے جلاوطن قائد خالد مشعل نے تمام فلسطینی گروپوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے کے لیے ایک مشترکہ قیادت تشکیل دیں۔انھوں نے اسرائل کے خلاف تشدد کے حالیہ واقعات کے تناظر میں مزاحمتی تحریک کو نئی انتفاضہ قرار دیا ہے۔

حماس کے سربراہ نے قطر سے غزہ میں ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے دوسری فلسطینی تنظیموں پر زوردیا ہے کہ ''وہ انتفاضہ کی ایک مشترکہ آپریشنل قیادت مقرر کریں اور مزاحمت کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مشترکہ حکمت عملی سے اتفاق کیا جائے''۔

خالد مشعل نے یہودی آباد کاروں کے مقابلے اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اسرائیل کی مسلح یا غیر مسلح ہر شکل میں مزاحمت پر زوردیا ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یکم اکتوبر سے جاری تشدد کے واقعات میں ستر فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے مبینہ چاقو حملوں میں نو اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مبینہ حملہ آور فلسطینی نوجوانوں کو موقع پر ہی فائرنگ یا پھر بے دردی سے گاڑیوں کے نیچے کچل کر شہید کیا ہے۔

اسرائیلی اور فلسطینی قیادت میں سے کسی نے بھی مقبوضہ علاقوں میں تشدد کی اس نئی لہر کو انتفاضہ کا نام نہیں دیا ہے۔البتہ وہ اس تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ اگر تشدد کا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو ایک نئی انتفاضہ تحریک شروع ہوسکتی ہے۔

فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے اور صہیونی فورسز کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف پہلی انتفاضہ تحریک 1987 میں شروع ہوئی تھی اور یہ 1993ء تک جاری رہی تھی۔دوسری مسلح مزاحمتی تحریک سنہ 2000ء سے 2005ء تک جاری رہی تھی۔اس عرصے کے دوران کم وبیش روزانہ ہی تشدد کے واقعات رونما ہوتے تھے اور ان میں ہزاروں فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔

اسرائیل کے قائد حزبِ اختلاف اسحاق ہرزوگ نے گذشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ اگر تشدد کی حالیہ لہر کو روکا نہیں گیا تو ایک نئی فلسطینی انتفاضہ تحریک شروع ہوسکتی ہے۔انھوں نے دونوں فریقوں پر زوردیا تھا کہ وہ تشدد کے حالیہ واقعات کی روک تھام اورامن مذاکرات کی بحالی کے لیے کام کریں۔

اسرائیلی لیڈر نے فلسطینی صدر محمود عباس سے رام اللہ میں ملاقات میں کہا تھا کہ ''ہمیں سب سے پہلے انتفاضہ کو روکنا ہوگا اور امن عمل شروع کرنے کے لیے ایک اور کوشش کرنا ہوگی''۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے بھی اپنے حالیہ بیانات میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تشدد پر قابو پانے اور اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی ہر زوردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں