شامی فوج کی داعش کے زیر قبضہ قصبے پر بمباری، 10 ہلاک
شام کے شمالی صوبے حلب میں داعش کے زیر قبضہ ایک قصبے پر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے فضائی حملے میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائےانسانی حقوق نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ حلب کے قصبے الباب پر فضائی بمباری میں مرنے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔داعش نے اس قصبے پر2014 ء کے اوائل سے قبضہ کررکھا ہے۔
ادھر حلب شہر میں شامی فوج کے کنٹرول والے علاقے پر باغیوں کی گولہ باری سے ایک بچے سمیت تین شہری مارے گئے ہیں۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے حلب میں مرنے والوں کی تعداد چار بتائی ہے۔
سانا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ شامی فوج نے روسی طیاروں کی بمباری کی مدد سے حلب کے جنوب میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ تین دیہات کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔شامی آبزرویٹری نے بھی سانا کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیائیں حلب کے جنوبی علاقوں میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں پیش قدمی کررہی ہے۔
شامی فوج نے 30 ستمبر کو روسی طیاروں کے داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے متعدد مرتبہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی ہے لیکن اس کو کوئی نمایاں کامیابی نہیں مل سکی ہے۔البتہ روسی فضائیہ کی مدد آنے کے بعد سے شامی فوج کا مورال ضرور بلند ہوا ہے۔
واضح رہے کہ حلب میں 2012ء سے باغیوں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔اس دوران اس شہر کی بیشتر عمارتیں تباہ وبرباد ہوچکی ہیں اور اس وقت یہ شہر دو حصوں میں منقسم ہے۔ شہر کے مغربی حصے پر سرکاری فوج کا قبضہ ہے اور مشرقی حصے پر باغی گروپ قابض ہیں۔
حلب مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کے آغاز سے قبل شام کا بڑا تجارتی اور کاروباری مرکز تھا لیکن اب وہ اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری اور اس کے جواب میں باغی گروپوں کی گولہ باری سے ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔حلب آبادی کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا شہر تھا مگر اب مقامی لوگوں کی بڑی تعداد اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ملک ترکی یا دوسرے ممالک کی جانب جاچکی ہے یا پھر اندرون ملک ہی قدرے محفوظ علاقوں میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہے۔