.

شامی لڑائی کو روسی جنگ قرار دینے پر مفتی شام پر تنقید

سرکاری مفتی کا دورہ ماسکو، دمشق حکومت کی مدد جاری رکھنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے سرکاری مفتی احمد بدرالدین حسون نے حال ہی میں اپنے دیرینہ اتحادی روس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایک طرف تو ماسکو سے شامی حکومت کی عسکری مدد جاری رکھنے کی اپیل کی مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ گئے کہ شام کے عوام روس کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے اس بیان پر روسی کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مفتی بدرالدین حسون نے ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق سوویت یونین کا حصہ رہنے والی کئی ریاستوں بالخصوص چیچنیا، داغستان، ترکمانستان اور آذر بائیجان میں دہشت گردوں کے ٹریننگ سینٹر قائم ہیں۔ یہاں سے دہشت گرد شام کے محاذ پر بھیجے جاتے ہیں اور وہاں سے وہ دہشت گردی کی سوغات واپس اپنے ملکوں میں لاتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی "سانا" کی رپورٹ کے مطابق مفتی بدرالدین حسون نے سابق سوویت یونین کا حصہ رہنے والی مسلمان ریاستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج روسی فوجی دمشق میں شام کو بچانے آئے ہیں بلکہ یہ شام میں روسی مفادات کا بھی تحفظ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ روس کو شام میں اپنی فوجی مداخلت کو مزید وسعت دینی چاہیے۔

مفتی حسون نے کہا کہ جب روس نے شام میں فوجی کارروائی کے ذریعے صدر اسد کے دفاع کی مہم شروع کی تو شامی عوام نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ ہم نے روس جیسے دیرینہ دوست کے ساتھ وفاداری نبھانے کی خاطرامریکی دبائو کو مسترد کیا۔

انہوں نے روس کے حوالے سے یہاں ایک ایسی بات کہہ دی جو خود روسی عوام کے لیے حیران کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک روس کو معاشی دیوالیہ ہونے سے بچانے کے اپنے موقف کی قیمت چکا رہا ہے۔ مفتی اعظم بدرالدین حسون روس کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ شام کی جنگ ماسکو کی وجہ سے ہے۔ دمشق چونکہ روس کا دیرینہ اتحادی ہے اور عالمی سازشیں روس کو اقتصادی میدان میں تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ اس لیے شام نے روس کو اقتصادی بحران سے بچا لیا ہے۔

مبصرین نے مفتی مصر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اصل ہدف بحر متوسط ہے اور عالمی طاقتیں یہ نہیں چاہتیں کہ گرم پانیوں میں روس کا کوئی ایک بھی بحری جہاز موجود رہے یا یہ کہ ماسکو پرسکون سمندر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔

دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شام کی جنگ دراصل دمشق کی نہیں بلکہ ماسکو کی جنگ ہے۔ شامی اپوزیشن اور دیگر گروپوں کا اصلا ً کوئی وجود ہی نہیں۔ مفتی شام کا کہنا تھا کہ میڈیا کی جو جنگ اس سے قبل شام کے خلاف تھی اب روس کے خلاف جاری ہے، تاہم انہوں نے کھل کر روس کے دشمنوں کا نام نہیں لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شام کے سرکاری مفتی کے متنازع بیان پر روس کے عوامی حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل دیکھا گیا ہے۔ کچھ شہریوں نے ان کے بیان کا خوب تمسخر اڑایا ہے اور بعض نے اسے منافقانہ روش قرار دیتے ہوئے شام کی جنگ کو روس کی جنگ قرار دینے اس کی مذمت کی ہے۔