عراقی فوج کی الرمادی سے شہریوں کو نکل جانے کی ہدایت

داعش کا شہر پر قبضہ ختم کرانے کے لیے عراقی فوج کی بڑے آپریشن کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق کی فوجی کمان نے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی میں مقیم شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔الرمادی پر داعش نے مئی سے قبضہ کررکھا ہے اور عراقی سکیورٹی فورسز اس شہر کا کنٹرول واپس لینے کے لیے ایک بڑی کارروائی کی تیاری کررہی ہیں۔

عراقی فوج کے سوموار کو سرکاری ٹیلی ویژن چینل عراقی ٹی وی سے نشر کردہ بیان میں الرمادی کے جنوبی علاقے حمیرہ میں مقیم خاندانوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں۔البتہ مزید کوئی ہدایت یا تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ الرمادی پر دوبارہ قبضے کے لیے عراقی سکیورٹی فورسز کب التوا کا شکار آپریشن شروع کریں گی۔امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز الرمادی کے نزدیک داعش کے ٹھکانوں ،اسلحہ ڈپوؤں اور اہم اہداف پر سات حملے کیے تھے۔

داعش کے جنگجوؤں نے اس سال مئی میں عراقی فوج کو شکست دینے کے بغداد سے ایک سو پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع الرمادی پر قبضہ کیا تھا۔تب وہاں عراقی فوجی اپنی چوکیوں کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر گئے تھے۔عراقی فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران الرمادی کے شمال اور مغرب میں واقع بعض علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو پسپا کردیا ہے۔

صوبہ الانبار میں عراقی فوج کے شانہ بشانہ شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے جنگجو بھی داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔الحشد الشعبی کے ترجمان احمد الاسعدی اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے مئی کے وسط میں داعش کے الرمادی پر قبضے کے وقت کہا تھا کہ شہر کو آیندہ دنوں میں دوبارہ فتح کر لیا جائے گا لیکن ساڑھے چھے ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ داعش کو شکست نہیں دے سکے ہیں۔

عراقی حکومت اور فوج نے اس پر تیز رفتاری سے دوبارہ قبضے کے لیے منصوبہ بندی کی تھی لیکن داعش کے جنگجوؤں نے اب تک سرکاری فوج کی سخت مزاحمت کی ہے۔داعش نے الرمادی کے دفاع کے لیے حصاریں قائم کررکھی ہیں اور شہر کے گردا گرد بارودی سرنگیں بھِ نصب کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ عراقی فوجی الرمادی میں شکست کے بعد اپنے ہتھیار اور سازوسامان بھی چھوڑ کر بھاگ گئے تھے جس پر داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا تھا۔اس شہر کے سقوط کو عراقی سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی شکست اور ہزیمت قرار دیا گیا تھا۔عراقی فورسز کے اس طرح میدان جنگ سے راہ فرار پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزیردفاع ایش کارٹر نے کہا تھا کہ انھوں نے داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے میں زیادہ تعداد کے باوجود شکست کھائی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں لڑائی کے لیے عزم کی کمی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں