.

شام میں سرگرم ایرانی شیعہ ملیشیا کی تفصیلات

جنرل سلیمانی کے زخمی ہونے کے بعد ایرانیوں کو غیرمعمولی جانی نقصان کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی اپوزیشن نے شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑنے والی ایرانی شیعہ ملیشیا کی تفصیلات جاری کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ شام کے محاذ جنگ پر ایرانی پاسداران انقلاب، افغان، عراقی، پاکستانی اور لبنانی حزب اللہ کے جنگجوئوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پیرس میں قائم ایرانی اپوزیشن کی نمائندہ قومی سلامتی کونسل کی کمیٹی برائے "دفاع و انسداد دہشت گردی" کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی رپورٹ میں شام میں ایرانی جنگجو گروپوں کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وسط نومبر میں ایران کی بیرون ملک سرگرم "القدس ایلیٹ" فورسز کے سربراہ جنرل سلیمانی باغیوں کے حملے میں زخمی ہوئے ہیں ایرانی جنگجوئوں اور فوجیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

پاسداران انقلاب قیادت شام میں

نیشنل کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیاہے کہ شام کے محاذ جنگ پر سرگرم ایرانی شیعہ ملیشیا کی رہ نمائی اور ان کی کمان پاسداران انقلاب کے کئی سرکردہ عہدیدار کر رہے ہیں۔ اہم ایرانی فوجی عہدیداروں میں بریگیڈٰیئر جنرل اسماعیل قآنی جنرل قاسم سلیمانی کے نائب کے طور پر جنگجو گروپوں کی کمان کر رہے ہیں۔ بریگیڈیئر جنرل قآنی 8 اکتوبر کو شام میں مارے جانے والے جنرل حسین ھمدانی کی جگہ بھی ہنگامی طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل رستمی پاسداران انقلاب کی "خاتم" نامی یونٹ کے سابق سربراہ اور سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں پٹرولیم کے وزیر بھی رہ چکے ہیں شام میں جنگی خدمات انجام دے رہےہیں۔

انہی میں بریگیڈیئر جنرل احمد مدنی المعروف سید جواد کا نام بھی آتا ے۔ سید جواد ماضی میں پاسداران انقلاب کے شام میں لڑنے والے فوجیوں کے ناردن فرنٹ کو کمان کرتے رہے ہیں۔ وہ اس وقت بھی حلب میں موجود ہیں۔

ایران کے ضلع خوزستان کی "ولی عص" نامی ملیشیا کے سربراہ حاج علی صٖری بھی شام کے اللاذقیہ شہر میں پائے جاتے ہیں جو ان دنوں وہاں پر ایرانی اجرتی قاتلوں کی رہ نمائی میں مصروف عمل دکھائی دیے گئے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے کربلاء بریگیڈ کے بریگیڈیئر جنرل حاج کمیل کھنسال کا تعلق ایران کے ضلع مازندران سے ہے۔ وہ چند ہفتے قبل اللاذقیہ میں باغیوں سے لڑتےہوئے زخمی ہو چکے ہیں۔ جس کے بعد انہیں ایران منتقل کر دیا گیا تھا۔

شام میں ایرانی فوج اور ملیشیا کی تعداد

ایرانی اپوزیشن قومی کونسل کے ایک ذریعے نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شام کے محاذ جنگ پر ایرانی فوج اور اس کی ماتحت نجی ملیشیا نے غیرمعمولی قربانیاں پیش کی ہیں۔ محاذ جنگ پر ایرانی پاسداران انقلاب کے علاوہ عراق، افغانستان، پاکستان اور لبنانی حزب اللہ کے ہزاروں جنگجو صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑ رہے ہیں۔ ایسے افراد کی تعداد کم سے کم پانچ ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان میں پاسداران انقلاب کی کل 25 ہزار ایلیٹ فورس کے سیکڑوں اہلکار بھی شامل ہیں جو اس وقت شام میں مجموعی طورپر 25 ہزارجنگجوئوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس طرح شام میں بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ بھاری تعداد میں ایران اور دوسرے ملکوں سے آنے والے جنگجوئوں کا اہم کردار ہے۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت جلد ایرانی جنگجوئوں اور فوجیوں کی شام میں تعداد تیس ہزار تک پہنچ جائے گی۔

ایرانی جرنیلوں کی شام میں ہلاکتیں

شام کے محاذ جنگ پر جہاں اب بھی ہزاروں کی تعداد میں ایران کی باضابطہ فوج کے افسر اور سپاہی موجود ہیں وہاں کئی اہم عہدیدار اس جنگ میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اب تک ایسے 19 سینیر افسروں کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان کی شناخت پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف بریگیڈیئرجنرل حسین ھمدانی،الغدیر ملیشیا کے چیف بریگیڈٰیئر جنرل محمد علی اللہ دادی، بریگیڈیئر جنرل عبداللہ اسکندری، بریگیٰڈئیر جنرل عبداللہ حیدری، بریگیڈٰیئر جنرل حسن شاطری، بریگیڈیئر جنرل اسماعیل حیدری، بریگیڈیئر جنرل جبار دریساوی، بریگیڈیئر جنرل محمد جمالی باقلعہ، بریگیڈیئر جنرل سید طباطبائی مہر، بریگیڈیئر جنرل ھادی کجباف، بریگیڈیئر جنرل حسین بادبا، بریگیڈیئر جنرل روزبہ ھلیسیایی، بریگیڈیئرجنرل جبار عراقی، بریگیڈئر جنرل شیبانی، بریگیڈیئر جنرل عبدالرضا مجیری، بریگیڈئیر جنرل عزت اللہ سلیمانی، بریگیڈئیر جنرل امیر رضا علی زادہ، بریگیڈیئر جنرل عباس عبدللھی، کرنل مسلم خیزاب، کرنل حمدی مختار اور کرنل فرشاد حسونی زادہ کے ناموں سے کی گئی ہے۔