.

عراقی فورسز کا الرمادی کے نواحی علاقے پر دوبارہ قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سکیورٹی فورسز نے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی کے جنوب مغرب میں واقع ایک بڑے علاقے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو پسپا کردیا ہے۔

عراقی فوج اور اس کی اتحادی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی نے کئی روز کی لڑائی کے بعد آل تمیم کے علاقے پر دوبارہ کنٹرول کیا ہے۔داعش کے خلاف اس جنگی کامیابی کو ایک نمایاں پیش رفت قراردیا جارہا ہے۔

عراق کی انسداد دہشت گردی سروس کے ترجمان صباح النعمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''آج ہماری فورسز نے داعش کے مسلح افراد کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد آل تمیم کا تمام علاقہ کلیئر کرا لیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں کے پاس ہتھیار ڈالنے یا لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا اور انھیں مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے''۔

عراقی فورسز کی مشترکہ آپریشنز کمان کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ رسول نے بھی اس علاقے پر قبضے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے الرمادی شہر کو آزاد کرانے کے لیے لڑائی کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔

آل تمیم دریائے فرات کے ایک کنارے کی جانب واقع ہے اور اب عراقی فورسز کے اہلکار اس علاقے کو داعش کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں یا بموں سے پاک کررہے ہیں۔ عراقی فوج کو داعش کے خلاف اس جنگ میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی فضائی مدد حاصل ہے اور وہ الرمادی کے نواح میں داعش کے ٹھکانوں ،اسلحہ ڈپوؤں اور اہم اہداف پر حملے کررہے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے اس سال مئی میں عراقی فوج کو شکست دینے کے بعد بغداد سے ایک سو پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع الرمادی پر قبضہ کیا تھا۔تب وہاں عراقی فوجی اپنی چوکیوں کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر گئے تھے۔قبل ازیں عراقی فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران الرمادی کے شمال اور مغرب میں واقع بعض علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھااور وہاں سے داعش کے جنگجو پسپا ہوگئے تھے۔

اس شہر کے سقوط کو عراقی سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی شکست اور ہزیمت قرار دیا گیا تھا۔عراقی فورسز کے اس طرح میدان جنگ سے راہ فرار پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزیردفاع ایش کارٹر نے کہا تھا کہ انھوں نے داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے میں زیادہ تعداد کے باوجود شکست کھائی تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں لڑائی کے لیے عزم کی کمی تھی۔