جنرل سلیمانی کا انتقال،تقریب میں عدم شرکت کا سبب؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کی طاقتور فوج پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم القدس ایلیٹ فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے شام میں شدید زخمی ہونے کے بعد ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ وہ یا تو اس حد تک زخمی ہیں کہ کسی قسم کی بات تک نہیں کر سکتے یا وہ بھی شام کے صدر بشار الاسد پر اپنی جان قربان کر گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل سلیمانی کی ممکنہ موت کے خدشات کو اس وقت اور بھی تقویت ملی ہے جب سوموار کے روز تہران کی بہشتی یونیورسٹی میں ’’یوم طالب‘‘ کے زیر عنوان منعقدہ ایک پروگرام کو منسوخ کر دیا گیا۔ اس پروگرام میں جنرل قاسم سلیمانی کو خطاب کرنا تھا۔ جنرل سلیمانی نہ تو خود پروگرام میں شرکت کر سکے اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی پیغام بھیجا گیا۔ اس سے یہ شُبہ ہوا کہ قاسم سلیمانی شدید زخمی ہونے کے بعد وفات پا چکے ہیں۔

خیال رہے کہ القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی عراق اور شام میں سرگرم رہے ہیں۔ انہیں وسط نومبر میں شام کے شمالی شہر حلب میں اپوزیشن فورسز کے ساتھ لڑائی کے دوران شدید زخمی ہونے کے بعد تہران لایا گیا تھا۔

ایرانی کی جلا وطن اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل سلیمانی کی حالت تشویشناک تھی۔ اپوزیشن نے تہران حکومت کا وہ دعویٰ مسترد کر دیا تھا کہ سلیمانی معمولی زخمی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے سر میں گولیاں لگی ہیں جس کے باعث ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے سرکی دو مرتبہ سرجری ہو چکی ہے۔

قبل ازیں تہران میں قائم جامعہ بہشتی نے ’’یوم طالب‘‘ کے عنوان سے ایک تقریب کا اعلان کیا تھا جس میں جنرل قاسم سلیمانی کو بہ طور صدر مجلس کے شریک ہونا تھا۔ بعد ازاں یونیورسٹی نے وہ تقریب سرے سے منسوخ کر دی۔ اس پر ایران کے ابلاغی حلقوں میں بھی جنرل سلیمانی کی زندگی کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں