شام : روس کے لڑاکا طیاروں کی ادلب پر بمباری، دسیوں ہلاک

شامی حکومت اور روسی فضائیہ پر شہری علاقوں میں کلسٹر بم برسانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں مبینہ طور پر روس کے لڑاکا طیاروں کی بمباری سے ستر سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شامی فوج اور روسی فضائیہ پر باغی گروپوں کے خلاف کلسٹر بم استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

شامی کارکنان کے مطابق روس کے لڑاکا طیاروں نے اتوار کو باغیوں کے زیر قبضہ شہر کے وسط میں واقع ایک مصروف بازار ،متعدد سرکاری عمارتوں اور رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے۔امدادی کارکنان نے تینتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبوں سے تیس مزید لاشیں نکالی گئی ہیں لیکن فوری طور پر ان کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

درایں اثناء ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور اس کی اتحادی روسی فضائیہ پر شام میں ستمبر سے باغی گروپوں کے خلاف کلسٹر بم استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

نیویارک میں قائم انسانی حقوق کے اس گروپ نے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس نے 30 ستمبر کو روس کے شام میں فضائی حملوں کے آغاز کے بعد بیس مقامات پر کلسٹرہتھیار استعمال کرنے کے دستاویزی شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو نے کہا ہے کہ اس کے پاس نو مقامات پر کلسٹر بموں کے حملوں کی تفصیل موجود ہے جس کے مطابق ان میں پینتیس شہری ہلاک ہوئے تھے۔ان میں پانچ خواتین اور سترہ بچے شامل ہیں اور دسیوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شامی شہریوں پر چلائے جانے والے یہ تمام کلسٹر بم روسی ساختہ تھے یا سابق سوویت یونین میں بنے تھے۔تنظیم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی شہریوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔اس نے تمام فریقوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ کلسٹر ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ بند کردیں۔

واضح رہے کہ کلسٹر ہتھیاروں میں سیکڑوں چھوٹے چھوٹے بم ہوتے ہیں۔انھیں راکٹوں کے ساتھ برسایا جاسکتا ہے یا لڑاکا طیاروں سے اہداف پر گرایا جاسکتا ہے۔ان کے نتیجے میں بلاامتیاز وسیع علاقے پر تباہی اور ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بم پہلے حملے کے بعد نہیں پھٹتے ہیں اور بعد میں ایک طویل وقفے کے بعد یہ پھٹ سکتے ہیں جس سے ہلاکتیں ہوتی ہیں۔کلسٹر بموں کی ان تباہ کاریوں کے پیش نظر اقوام متحدہ نے ان کے استعمال پر پابندی عاید کررکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں