.

الانبار میں داعش کے متعدد سرکردہ کمانڈر مارے گئے

مہلوکین میں داعش کے خودساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کا قریبی مصاحب بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی وزارت داخلہ نے مغربی صوبے الانبار میں سوموار کے روز دو فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے داعش کے سرکردہ کمانڈروں کی تفصیل جاری کی ہے اور بتایا ہے کہ ان میں تین روسی شہری تھے اور ان میں داعش کا میزائل بنانے کا ماہر بھی شامل تھا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ مہلوکین میں داعش کی فوجی کونسل کا ایک عہدے دار ابواحمد العلوانی شامل ہے۔وہ صدام حسن کے دور میں سابق ری پبلکن گارڈز کا اہلکار رہا تھا۔

ابواحمد العلوانی کا تعلق صوبائی دارالحکومت الرمادی سے تھا جس پر دو روز پہلے عراقی فوج نے قبضہ کیا ہے۔وہ داعش کے خودساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کا قریبی مصاحب تھا اور امریکی فوج کے عراق پر قبضے کے وقت گرفتار ہوا تھا اور اس کے زیرانتظام بغداد کے نزدیک واقع کیمپ بکا میں قائم حراستی مرکز میں قید رہا تھا۔

دوسرے مہلوکین میں عبدالرحمان الیمنی المعروف ابومیسرہ نمایاں ہے۔وہ تیئیس سال کی عمر میں عراق میں القاعدہ کے مقتول لیڈر ابو مصعب الزرقاوی کے ساتھ کام کرتا رہا تھا۔گذشتہ برسوں کے دوران وہ پہلے شام میں اور پھر اپنے آبائی وطن یمن میں القاعدہ سے وابستہ عالم دین انورالعولقی کے ساتھ مقیم رہا تھا۔انورالعولقی یمنی نژاد امریکی شہری تھے اور وہ 2011ء میں امریکا کے ایک ڈرون حملے میں یمن میں مارے گئے تھے۔

ابو میسرہ 2013ء میں کسی وقت یمن سے شام چلے گئے تھے اور وہیں انھیں حلب میں داعش کی جانب سے کمان کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔اس کے بعد وہ سابق حکمراں جماعت کالعدم بعث پارٹی کے ایک سابقہ رہ نما ابوعلی الانباری کے ساتھ واپس عراق آگئے تھے۔انھیں الرمادی میں داعش کی قیادت کو تقویت پہنچانے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔

مہلوکین میں داعش کے ایک اور سرکردہ کمانڈر ابو سعد الانباری بھی شامل ہیں۔وہ دریائے فرات میں اسلامی پولیس کے کمانڈر تھے۔وہ شام کی سرحد کے نزدیک واقع ضلع القائم کے رہنے والے تھے۔انھیں امریکی فوجیوں نے ماضی میں گرفتار کیا تھا اور انھیں سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن وہ بدش میں واقع جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

فضائی حملوں میں داعش سے وابستہ شامی شہری ابوالاثیر الشامی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔وہ داعش کے زیر قبضہ شامی گورنری دیرالزور میں میڈیا کی نگرانی کے ذمے دار تھے۔انھیں صدر بشارالاسد کی حکومت نے گرفتار کیا تھا لیکن 2013ء میں عام معافی کے بعد انھیں جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق فضائی حملوں میں داعش کے صوبہ فرات میں گورنر ابو انس السامرائی زخمی ہوگئے ہیں اور انھیں شامی علاقے میں علاج کے لیے منتقل کردیا گیا ہے۔ان پر الزام ہے کہ انھوں نے استنبول میں امریکی قونصل خانے پر حملے کی نگرانی کی تھی۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ عکاشہ کے علاقے میں فضائی حملے میں مرنے والوں میں شامی گورنری دیرالزور میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایشوز کے ذمے دار ابو ارکان العامری بھی تھے۔وہ ایک عراقی شہری تھے اور انھیں امریکا کی قیادت میں اتحادی فوج کی عراق پر چڑھائی کے وقت گرفتار کیا گیا تھا۔بعد میں وہ کسی طرح رہا ہوگئے تھے۔انھیں خلیفہ ابوبکر البغدادی کے حکم پر الرمادی میں داعش کی مدد کے لیے بھیجا گیا تھا۔

عکاشہ میں فضائی حملوں میں دوسرے مرنے والوں میں عراقی شہری ابو منصور الشامی اور روسی شہری ابوعمر بھی شامل ہیں۔ابوعمر میزائل بنانے کے ماہر بتائے جاتے ہیں۔ان کے علاوہ داعش کی میزائل سازی کی فیکٹری کے انچارج ابو خالد الشامی اور دو روسی جنگجو بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ابو خالد کا تعلق شام کے وسطی شہر حمص سے تھا۔