فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کا خواب بھی نہ دیکھیں: محمود عباس
فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے زیر قیادت اتھارٹی کے خاتمے سے متعلق افواہوں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس سے کبھی دست بردار نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ''میں گذشتہ چند روز کے دوران فلسطینی اتھارٹی اور اس کی تخریب وانہدام سے متعلق بہت باتیں سنی ہیں۔یہ اتھارٹی ہماری کامیابی ہے اور ہم اس سے کبھی دست بردار نہیں ہوں گے''۔
انھوں نے بیت لحم میں کرسمس کے موقع پر ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''فلسطینی اتھارٹی کے انہدام کا خواب بھی نہ دیکھیں''۔واضح رہے کہ بعض آرتھوڈکس چرچ آج جمعرات کو کرسمس منا رہے ہیں۔وہ باقی عیسائیوں کے ساتھ 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یوم پیدائش نہیں مناتے ہیں۔
صدر محمود عباس نے فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کے بعد کی صورت حال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ''اتھارٹی موجود ہے،اس کے بعد فلسطینی ریاست معرض وجود میں آئے گی،کسی کے پاس کوئی اور منظرنامہ نہیں ہے اور نہ ہم کسی اور کا پیش کردہ کوئی منظرنامہ قبول کریں گے''
اسّی سالہ محمود عباس نے گذشتہ ہفتے اپنی خرابیِ صحت سے متعلق پھیلنے والی افواہ کے بعد پہلی مرتبہ یہ بیان جاری کیا ہے۔گذشتہ ہفتے بعض حلقوں کی جانب سے یہ افواہ اڑائی گئی تھی کہ ان کی صحت خراب ہے جس کے پیش نظر فلسطینی اتھارٹی ختم ہوسکتی ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی نے اس افواہ کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
فلسطینی صدر نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں گذشتہ تین ماہ سے جاری تشدد کے واقعات کے بعد پہلی مرتبہ کسی عوامی مجلس میں گفتگو کی ہے اور وہ بظاہر بہتر نظر آرہے تھے۔اسرائیل کی چیرہ دستیوں کے نتیجے میں ہر طرف سے مایوس فلسطینی نوجوان یہودیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز پر چاقو حملے کررہے ہیں۔اسرائیلی حکام ان چاقو حملوں کا فلسطینی اتھارٹی کو ذمے دار ٹھہرارہے ہیں۔
واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی 1993ء میں اسرائیل کے ساتھ اوسلو امن معاہدے کے تحت قائم ہوئی تھی۔اس وقت اس کو کاروبار حکومت چلانے کے لیے رقوم کی کمی کا سامنا ہے۔اس کے تحت سکیورٹی فورسز صہیونی ریاست کے ساتھ تعاون کررہی ہیں جس کی وجہ سے اس پر فلسطینی کڑی تنقید کررہے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ایک عارضی انتظامی ادارے کے طور پر تشکیل دی گئی تھی لیکن اوسلو معاہدے کے بعد دو عشرے سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجودنوجوان فلسطینیوں کو آزاد ریاست کے قیام کے لیے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دھارنے میں کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے اور بہت سے یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ محمود عباس ان کی تشویش وتحفظات کی نمائندگی نہیں کررہے ہیں۔
رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق دو تہائی فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خلاف نئی انتفاضہ تحریک میں یقین رکھتے ہیں۔ان کے بہ قول مذاکرات کے بجائے انتفاضہ ہی سے قومی مفادات کا بہتر طور پر تحفظ ہوسکتا ہے۔درایں اثناء اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو فلسطینی اتھارٹی کے انہدام کی صورت میں متبادل ہنگامی منصوبے پر غور کررہے ہیں۔