عرب لیگ: ایران میں سعودی مشنوں پر حملوں کی مذمت
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے ایران میں سعودی عرب کے سفارتی مشنوں پر حملوں کی مذمت کی ہے اور تہران حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ان سفارتی مشنوں کے تحفظ میں ناکام رہی تھی۔
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے قاہرہ میں منعقدہ ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں بحرین میں ایران کے پاسداران انقلاب سے وابستہ ایک جنگجو گروپ بے نقاب ہونے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔بحرینی حکام نے اس جنگجو گروپ کو حال ہی میں پکڑا ہے۔
عرب لیگ کے اجلاس میں لبنان کے سوا تمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران کے خلاف مذمتی بیان کی منظوری دی ہے مگر لبنانی وزیرخارجہ نے ایران کی حمایت یافتہ طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے دباؤ کے پیش نظر اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا ہے۔
تاہم بیان میں ایران کے خلاف کسی اجتماعی اقدام پر اتفاق نہیں کیا گیا ہے۔البتہ تنظیم کی ایک چھوٹی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان تنازعے سے پیدا ہونے والے بحران پر بات چیت جاری رکھے گی اور مستقبل میں ایران مخالف ممکنہ اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال کرے گی۔
عرب وزرائے خارجہ کے اس ہنگامی اجلاس میں تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مظاہرین کے حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا ہے۔اس موقع پر سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات کا انقطاع پہلا قدم ہے۔اگر ایران اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لاتا تو اس کے خلاف مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
انھوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ تنازعے کی وجہ سے شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف مزید اقدامات کے حوالے سے اپنے علاقائی اور بین الاقوامی اتحادیوں سے تبادلہ خیال کرے گا لیکن انھوں نے ان ممکنہ اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بعض ممالک نے دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کے لیے ثالثی کی پیش کش کی ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ایران سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔