.

ایران کے سابق صدر کا اصلاح پسندوں کی حمایت کا مطالبہ

عوام ووٹ کی طاقت سے شدت پسندوں کا راستہ روکیں: رفسنجانی، خاطمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دو سابق صدور محمد خاتمی اور علی اکبر ھاشمی رفسنجانی نے آئندہ جمعہ بہ مطابق 26 فروری کو ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں عوام سے اصلاح پسند امیدواروں کو ووٹ دے کر انہیں کامیاب بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عوام ووٹ کی طاقت سے شدت پسندوں کے اقتدار تک پہنچنے کا راستہ روکیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق صدر محمدخاتمی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عوام نے سنہ 2013ء کے صدارتی انتخابات میں پہلا قدم اٹھایا اور حسن روحانی جیسے اصلاح پسندرہ نما کو ملک کا صدر منتخب کیا۔ آج دوسرا قدم اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مجلس شوریٰ[پارلیمنٹ] اورگارڈین کونسل کے انتخابات کے موقع پر اصلاح پسند اور اعتدال پسند قیادت کو ووٹ دیں۔

خیال رہے کہ ایران میں آئندہ جمعہ کو پارلیمنٹ اور گارڈین کونسل کے انتخابات کے دوران عوام اپنا حق رائے دیہی استعمال کریں گے۔ یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران میں اصلاح پسندوں اور بنیاد پرستوں میں سخت مقابلے کی کیفیت ہے۔

اس سے قبل سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ اصلاح پسند اپوزیشن نے محمود احمدی نژاد کی دوسری مرتبہ کامیابی کو دھاندلی کا نتیجہ قرار دے کر اس کے خلاف سبز انقلاب تحریک برپا کردی تھی۔ تاہم حکومت نے طاقت کے ذریعے اصلاح پسندوں کی پرامن تحریک کچل دی تھی۔ تاہم سنہ 2013ء کو ہونے والے انتخابات میں صدر حسن روحانی کی کامیابی نے اصلاح پسندوں کو ایک بار پھر قابل ذکر قوت ثابت کیا ہے۔

ادھر سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے بھی اپنے ایک بیان میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اعتدال پسند اور اصلاح پسند امیدواروں کو ووٹ دے کر شدت پسندوں کے اقتدار فیصلہ ساز اداروں تک رسائی کا راستہ روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ ایران کی ماہرین کونسل کے رکنیت کے لیے صدر حسن روحانی اور ھاشمی رفسنجانی کے نام بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ ان رہ نماؤں کی کوشش ہے کہ آیت اللہ محمد یزدی جیسے قدامت پسندوں کو ماہرین کونسل سے دور کیا جا سکے۔

سنہ 2013ء کے صدارتی انتخابات میں ان دونوں سابق صدور نے اصلاح پسند لیڈر حسن روحانی کے بہ طور صدر انتخاب کی تائید کی تھی۔ اصلاح پسندوں کی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کی خاطر ایک دوسرے رہ نما محمد رضاعارف حسن روحانی کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے۔

ادھر بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کے پوتے حسن خمینی نے بھی عوام سے چھبیس فروری کے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے، انہیں ماہرین کونسل کے انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔

حسن خمینی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انتخابات کے بائیکاٹ کا کوئی جواز نہیں ہے۔ جسے کوئی اعتراض یا شکایت ہو وہ انتخابات کے بعد اپنا احتجاج ریکارڈ کرا سکتا ہے لیکن یہ ہفتہ ووٹ ڈالنے کا ہے۔