.

شامی اپوزیشن : اقوام متحدہ کے تحت مذاکرات کی بحالی مشکوک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جنگی کارروائیاں روکنے کے سمجھوتے کے باوجود ان پر ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں اسدی فوج کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حزب اختلاف کے ایک نمائندے نے 9 مارچ کو اقوام متحدہ کے تحت امن مذاکرات کے آغاز کے بارے میں شک کا اظہار کیا ہے۔

شامی حزب اختلاف کے سرکردہ عہدے دار جارج صبرہ نے کہا ہے کہ بات چیت کی بحالی کے لیے تاریخ مفروضے پر مبنی ہے کیونکہ جب تک جنگ بندی سمجھوتے کی تمام شرائط کو پورا نہیں کیا جاتا ،حکومت کی جیلوں میں قید افراد کو رہا نہیں کیا جاتا ہے تو ان مذاکرات کی بحالی بھی ناممکن ہے۔

جارج صبرہ نے العربیہ کے چینل الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اس جنگ بندی کا فائدہ ہی کیا جب اس کی نگرانی کرنے والے ممالک امریکا اور روس تمام فریقوں کو اس کی پاسداری کے لیے آمادہ ہی نہیں کرسکتے''۔

شام میں امریکا اور روس کی ثالثی میں طے پائے جنگ بندی سمجھوتے پر گذشتہ ہفتے کے روز سے عمل درآمد کیا جارہا ہے لیکن اس کا داعش اور القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ پر اطلاق نہیں ہوتا ہے۔روس اور امریکا کی قیادت میں اتحاد نے شام میں داعش اور النصرۃ محاذ کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں مگر دوسرے اسلامی گروپ بھی روسی اور شامی فوج کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس نے شام میں حالیہ دنوں کے دوران شامی حزب اختلاف اور شہریوں کے خلاف فضائی حملوں میں کمی ملاحظہ کی ہے لیکن اس کو ٹینکوں اور توپ خانے سے گولہ باری پر تشویش لاحق ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ واشنگٹن شامی حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق رپورٹس کے بارے میں آگاہ ہے۔اس نے مزید کہا ہے کہ وہ ان کی تصدیق تو نہیں کرسکتا لیکن ان کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

اسرائیل نے منگل کے روز یہ دعویٰ کیا تھا کہ شامی فوج گذشتہ چند روز سے شہریوں پر کلورین بم گرارہی ہے۔ دمشق حکومت نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔البتہ اس نے جنگ بندی سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی کی تردید کی ہے۔

شامی حزب اختلاف باغی گروپوں کے زیر قبضہ تمام علاقوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے اور سرکاری جیلوں میں قید افراد کی رہائی کا مطالبہ کررہی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دسمبرمیں منظور کردہ ایک قرارداد میں بھی ان مطالبات کا اعادہ کیا گیا تھا۔حزب اختلاف کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں تک ضرورت کے مطابق امدادی اشیاء بہم نہیں پہنچائی جارہی ہیں۔