.

داعش کی شام سے ترک قصبے پر راکٹ باری ، دو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شام میں اپنے زیر قبضہ علاقے سے ترکی کے ایک سرحدی قصبے کی جانب آٹھ راکٹ فائر کیے ہیں جس کے نتیجے میں ایک چار سالہ بچے سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترک میڈیا نے قصبے کیلیس کے مئیر حسن کارا کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ منگل کے روز بعض کاتیوشا طرز کے راکٹ کھلی جگہوں پر گرے ہیں اور ایک سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔سرکاری اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق راکٹ حملے میں ایک چوّن سالہ عورت ہلاک ہوئی ہے اور ایک راکٹ کے حصے ایک کار سے ٹکرائے ہیں۔اس میں چار اور چھے سال کی عمر کے دو بچے سوار تھے جو شدید زخمی ہوگئے۔ان میں چار سالہ بچہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ہے۔ کیلیس کے میئر حسن کارا نے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ خوفزدہ اور افراتفری کا شکار نہ ہوں۔

کیلیس میں 18 جنوری کے بعد شام سے چلائے گئے راکٹ گرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔تب داعش کے زیر قبضہ ایک شامی علاقے سے ترک قصبے پر راکٹ فائر کیے گئے تھے اور وہ ایک اسکول پر گرے تھے جس سے ایک نائب قاصد ہلاک اور ایک طالب علم زخمی ہوگیا تھا۔

ترکی کی دوغان نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ راکٹ شام میں داعش کے زیر قبضہ ایک علاقے سے فائر کیے گئے تھے۔تب ترک فوج نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی تھی۔

واضح رہے کہ ماضی میں ترکی کے مغربی اتحادی اس پر داعش کے خلاف جنگ میں زیادہ اقدامات نہ کرنے پر تنقید کرتے رہے تھے لیکن اب ترکی شام میں داعش مخالف جنگ میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور اس نے اپنے انچرلیک ائیر بیس کو امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے استعمال کے لیے دے رکھا ہے اور یہ طیارے وہیں سے اڑ کر شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ترکی کی مسلح افواج نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ شام میں داعش کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔وسط فروری کے بعد ترک فوج نے شام میں کرد ملیشیا پی وائی ڈی کے ٹھکانوں پر بھی گولہ باری کی تھی لیکن 27 فروری کو شام میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد ترک فوج نے کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر کوئی بمباری نہیں کی ہے۔

شام میں اس وقت امریکا اور روس کے درمیان طے شدہ سمجھوتے کے تحت جنگ بندی جاری ہے لیکن اس کا اطلاق داعش اور القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ پر نہیں ہوتا ہے۔ان کے ٹھکانوں پر روس اور امریکی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔تاہم اب ان فضائی حملوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔