.

تدمر میں داعش کو شکست، شامی فوج کا دوبارہ قبضہ

اسدی فورسز کی مشرق میں داعش کے مضبوط گڑھ کی جانب پیش قدمی کی راہ ہموار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے تاریخی شہر تدمر پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کو شکست سے دوچار کردیا ہے۔

شامی فوج نے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس فتح سے داعش کے زوال کا آغاز ہوگیا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ تدمر پر دوبارہ قبضے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی حکومت کی فورسز اور ان کے اتحادی ہی شام میں دہشت گردی کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس نے مزید کہا ہے کہ ''فوج اور اس کے اتحادی شامی اور روسی فضائیہ داعش ،النصرۃ محاذ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خلاف اپنی مہم جاری رکھیں گے''۔واضح رہے کہ شامی حکومت صدر بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے لیے لڑنے والے تمام مسلح گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتی ہے۔

شامی فوج نے ہفتے کے روز تدمر میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر توپ خانے اور ٹینکوں سے شدید گولہ باری کی تھی۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ (آبزرویٹری) برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ شامی فوج کا تدمر میں داعش کے خلاف تین ہفتے سے جاری مہم کے دوران یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔اس سے شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کے لیے اس تاریخی شہر سے مشرق میں واقع داعش کے مضبوط گڑھ کی جانب پیش قدمی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ شامی فوجیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں نے تدمر کے قدیم شہر سمیت ایک تہائی حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور شامی فوجیوں کی جنوبی محاذ پر داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ؛ لڑائی جاری تھی۔

بعض عرب ٹیلی ویژن چینلز سے نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں اس تاریخی شہر پر نواحی علاقے سی گولہ باری کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں جس سے عمارتوں سے دھماکوں کی آوازیں آرہی ہیں اور دھواں اٹھ رہا ہے۔شامی فوج کو روسی فضائیہ کی مدد حاصل ہے اور اس کے طیارے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

داعش نے 21 مئی 2015ء کو شامی فوج کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد وسطی صوبے حمص میں واقع اس تاریخی شہر پر قبضہ کیا تھا۔اب شامی فوج نے اتحادی ملیشیاؤں اور روسی فضائیہ کی مدد سے دوبارہ اس پر قبضہ کر لیا ہے اور یہ اس کی داعش مخالف جنگ میں ایک بڑی فتح ہے۔

شام میں گذشتہ ایک ماہ سے امریکا اور روس کے مابین سمجھوتے کے تحت حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان جنگ بندی جاری ہے مگر اس کا اطلاق داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ پر نہیں ہوتا اور ان کے ٹھکانوں پر روسی فضائیہ اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔