فلوجہ میں فاقہ کشی پر متوجہ کرنے کی منفرد مہم
عراق کے محصور علاقے فلوجہ میں ایک لاکھ افراد ایک سال سے شدت پسند گروپ ’داعش‘ اور عراقی ملیشیا کے دوہرے ظلم وستم کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں وہاں کی آبادی خوراک کی قلت کے باعث نہایت کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ بھوک، ننگ اور فاقہ کشی کے نتیجے میں مائیں اپنے بچوں کے ہمراہ خود کشیاں کرنے لگی ہیں۔
ایسے مشکل ترین حالات میں عالمی سطح پر اہل فلوجہ کو خوراک مہیا کرنے کاکوئی جامع اور مربوط نظام وضع نہیں کیا جا سکا ہے۔ اہل فلوجہ کے مسائل اور پریشانیوں کا درد رکھنے والے عراقی شہریوں نے پلاسٹک کی بوتلوں میں خوراک ڈال کر انہیں دریائے فرات میں بہانے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ عالمی برادری کے ضمیر کو اس مخصوص انداز میں جھنجھوڑا جا سکے اور فلوجہ کا محاصرہ ختم کرتے ہوئے خوراک کی قلت کے شکار خواتین اور بچوں تک امدادی سامان پہنچانے کا کوئی بندوبست ہو سکے۔
الحدث ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق عراق کے شہری پلاسٹک کی بوتلوں میں خوراک کا سامان ڈالنے کے بعد ان پر’’فرات کی امانت‘‘ کے الفاظ لکھ کرانہیں دریا میں بہا دیتے ہیں۔
فلوجہ میں ایک لاکھ آبادی گذشتہ ایک برس سے داعش اور دوسرے شدت پسند گروپوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے۔ داعش نے اہل فلوجہ کو عراقی فورسز کے سامنے انسانی ڈھال بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلوجہ کے ستم رسیدہ شہری دونوں اطراف سے گولیوں کے نشانے پر ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے فلوجہ کے شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے متعدد مہمات بھی چلائی گئی تھیں۔ ان میں ایک مہم’’فلوجہ بھوک سے مر رہا ہے‘‘ کے عنوان سے کافی مشہور ہوئی مگر اس کے باوجود عالمی برداری اہل فلوجہ تک امدادی پہنچانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر جہاں فلوجہ کے محصورین کی دل دہلا دینے والی خبریں اور تصاویر دیکھنے کو ملتی ہیں وہیں سماجی کارکن بھی عراقی حکومت اور عالمی طاقتوں سے فلوجہ کے شہریوں کی امداد کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔