.

شام کا فرانس پر دہشت گردی کی اعلانیہ سپورٹ کا الزام !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد کا کہنا ہے کہ "شام کی خارجہ پالیسی میں" اہم ترین بات یہ ہے کہ "پم اپنا احترام کرتے ہیں"۔ منگل کے روز ایک ٹی وی گفتگو میں المقداد نے واضح کیا کہ ان کا ملک فرانس جیسے "کسی بھی ایسے ملک کے پاس ہر گز نہیں جائے گا جو دہشت گردی کو سپورٹ کرتا ہو"۔ انہوں نے باور کرایا کہ فرانسیسی "اعلانیہ طور پر دہشت گردی کو سپورٹ کرتے ہیں"۔

بعد ازاں المقداد نے برطانیہ کو بھی فرانس کی صف میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ "یہ دونوں ممالک النصرہ فرنٹ اور داعش کے حوالے سے اپنے بیانات اور تصرفات میں مختلف نہیں"۔

شامی نائب وزیر خارجہ نے اس امر کی تصدیق کی کہ جنیوا میں شامی حکومت کے وفد کے سربراہ بشار الجعفری ہوں گے۔

یہ بیان ان غیرمصدقہ میڈیا رپورٹوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ رواں ماہ جنیوا میں ہونے والے آئندہ مذاکرت میں بشار الاسد حکومت کے وفد کے سربراہ بشار الجعفری کی جگہ فیصل المقداد ہوں گے۔

المقداد نے واضح کیا کہ "ہمیں روسی قیادت پر پورا اعتماد ہے"۔ اس موقع پر انہوں نے خاص طور پر روسی صدر پوتن اور "ان کے بنیادی معاونین" کا بھی ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ "یقینا یورپی یونین کے بہت سے ممالک نے دہشت گرد جماعتوں کو سپورٹ کیا"۔

یہاں تک کہ المقداد نے برطانیہ اور فرانس کو "یورپ اور شام میں بہنے والے خون کا ذمہ دار" ٹھہراتے ہوئے دونوں ممالک سے "دہشت گردی کی سپورٹ" روک دینے کا مطالبہ کیا۔ شامی نائب وزیر خارجہ کے اس انداز پر ٹی وی میزبان بھی حیران ہوگئی اور اس نے المقداد سے ان کی "غیرسفارتی زبان" کے بارے میں سوال کر ڈالا۔ جواب میں المقداد نے کہا کہ " ہم اب بھی ان سے زیادہ ادب رکھتے ہیں"۔