.

مصر،سعودی عرب میں خصوصی تعلقات استوار ہیں:شکری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے قاہرہ کے دورے کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار ہیں۔

سامح شکری نے العربیہ نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ''بعض میڈیا حلقے ہمارے تعلقات کی مضبوطی کے بارے میں شکوک کا اظہار کررہے ہیں لیکن میں اپنے سعودی ہم منصب عادل الجبیر سے مسلسل رابطے میں ہوں اور انھوں نے مجھے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ دوطرفہ تعلقات مضبوط رہیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''سعودی عرب اور مصر نے سکیورٹی سمیت مختلف ایشوز سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششیں کی ہیں۔سعودی شاہ کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی خبریں اڑانے والوں کی سازش کا مقابلہ کیا جاسکے گا''۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ سے قریبی تعلق رکھنے والے سکیورٹی تجزیہ کار مصطفیٰ علانی کا کہنا ہے کہ ''سعودی مصر کو دیوالہ ہونے سے بچانے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں لیکن یہ بات بھی ہے کہ سعودی ہمیشہ کے لیے تو رقوم ادا نہیں کریں گے۔میرے خیال میں شاہ سلمان اپنے دورے میں ان ایشوز کی وضاحت کی کوشش کریں گے۔

توقع ہے کہ دورے کے موقع پر سعودی عرب مصر کے ساتھ بیس ارب ڈالرز کے ایک معاہدے پر دستخط کرے گا۔اس کے تحت آیندہ پانچ سال کے دوران مصر کی پیٹرولیم مصنوعات کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔اس کے علاوہ جزیرہ نما سینا میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ڈیڑھ ڈالرز مالیت کا ایک اور معاہدہ کیا جائے گا۔مصری وزیر خارجہ نے العربیہ سے قاہرہ میں حال ہی میں قتل ہونے والے ایک اطالوی طالب علم گیولیو ریجینی کے بارے میں بھی بات کی ہے ۔انھوں نے کہا کہ ''مصری حکام اپنی تحقیقات میں شفاف ہیں اور وہ اطالوی تفتیش کاروں کے ساتھ مل کر بھی کام کررہے ہیں۔مصر اس طالب علم کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے ایک وفد اٹلی بھیج رہا ہے''۔