سعودی عرب اور اردن نے ایرانی مداخلت مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب اور اردن نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایران کی مداخلت مسترد کردی ہے۔

سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان اردن کے سرکاری دورے پر سوموار کو عمان پہنچے ہیں۔انھوں نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور سے متعلق بات چیت کی ہے۔اس کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں دونوں ملکوں نے ایران کی خطے میں ہر طرح کی مداخلت کو مسترد کیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان اور اردنی شاہ نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کیے ہیں۔اس کے تحت ایک مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔تاہم اس کی مالیت نہیں بتائی گئی ہے۔انھوں نے دفاعی اور تجارتی شعبے میں دوطرفہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

سعودی عرب اس وقت علاقے میں ایران کی مداخلت اور اس سے لاحق خطرات سے نمٹنے کی غرض سے اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد امریکا کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے اور اس نے اپنے دیرینہ حلیفوں کو چھوڑ کر اب ایران کی جانب رُخ پھیر لیا ہے۔

درایں اثناء سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز مصر کے پانچ روزہ دورے کے بعد ترکی پہنچے ہیں۔انھوں نے قاہرہ میں قیام کے دوران مصری پارلیمان سے خطاب کیا تھا اور مصر اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون سے متعلق سولہ ارب ڈالرز مالیت کے مختلف معاہدے اور سمجھوتے طے پائے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں