.

تیران اور صنافیر سے متعلق موقف، جمال عبدالناصر کی بیٹی کا رجوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق صدر جمال عبدالناصر کی بیٹی اور پولیٹیکل سائنس کی پروفیسر ڈاکٹر ہدی عبدالناصر نے اپنے موقف سے رجوع کرتے ہوئے تیران اور صنافیر کے سعودی عرب کی ملکیت ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ اس سے قبل کچھ عرصے سے وہ باور کرا رہی تھیں کہ دونوں جزیرے مصر کے ہیں۔

سابق مصری صدر کی بیٹی کا کہنا ہے کہ "مجھے اتفاقا مصری وزارت خارجہ کی ایک دستاویز مل گئی جس پر 20 مئی 1967 (خلیج عقبہ کی بندش سے دو روز قبل) کی تاریخ موجود ہے۔ وزارت خارجہ میں فلسطین کے امور کی انتظامیہ کی جانب سے جاری یہ دستاویز اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ تیران اور صنافیرسعودی عرب کی ملکیت ہیں"۔

انہوں نے انکشاف کیا کچھ عرصہ قبل ملنے والی یہ دستاویز "انتہائی خفیہ" نوعیت کی ہے۔ یہ دستاویز خلیج عقبہ میں اسرائیلی جہاز رانی کے حوالے سے مصری وزارت خارجہ میں فلسطینی امور کی انتظامیہ کی جانب سے صدر جمال عبدالناصر کو بھیجی گئی تھی۔ اسی کی بنیاد پر عبدالناصر نے 22 مئی 1967 کو آبنائے عقبہ اسرائیلی جہاز رانی کے لیے بند کر دینے کا فیصلہ کیا۔

ہدی عبدالناصر کے مطابق دستاویز کے متن میں کہا گیا ہے کہ "24 فروری 1949 کو مصر اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے وقت طے پایا تھا کہ خلیج عقبہ میں اسرائیل کا وجود نہیں ہوگا جب تک کہ اردن کی فوجیں بیرقطار اور ام الرشاش کے علاقوں کو خالی نہیں کردیتیں۔ اسرائیلی فوج نے ان علاقوں کو قبضے میں لے کر ایلات کی بندرگاہ قائم کر ڈالی تھی۔ بعد ازاں مصر کی حکومت سعودی عرب کے ساتھ اس بات پر مفتق ہوگئی کہ مصری افواج تیران اور صنافیر کے جزیروں کو قبضے میں لے گی جو خلیج عقبہ کے داخلی راستے کو کنٹرول کرنے کے مقام پر واقع ہیں"۔

انہوں نے واضح کیا کہ مصر ان جزیروں کو قبضے میں لے کر اسرائیلی خطروں سے ان کی حفاظت کررہاتھا، اس لیے کہ سعودی عرب کو اندیشہ تھا کہ اسرائیل ان پر حملہ کرے گا لہذا دونوں جزیروں کا انتظام مصر کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

ڈاکٹر ہدی کے مطابق مصر اور سعودی عرب کے درمیان سرحدوں کے تعین سے متعلق معاہدے کے مخالفین کے پاس اپنے موقف کی حمایت میں کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ سعودی عرب اور مصر دو برادرممالک ہیں۔

ہدی عبدالناصر نے وزارت خارجہ سے ریاست کے دستاویزات کی حفاظت کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی وزیر ذرائع ابلاغ کو میڈیا میں آنے والے متنازعہ خبروں کا جواب دینے کا مکلف بنانے پر زور دیا۔

یاد رہے کہ ہدی عبدالناصر نے سابقہ بیانات میں باور کرایا تھا کہ دونوں جزیرےمصر کی ملکیت ہیں اور ان کے والد نے 1967 میں تیران کے حوالے سے جو بیان دیا تھا وہ حقیقت پر مبنی تھا۔