مذاکرات کی ناکامی پر یمنی فوج صنعاء داخل ہو گی: عسیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں آئینی حکومت کی رٹ بحال کرنے کے لئے سرگرم عرب اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈئر جنرل احمد العسیری نے خبردار کیا ہے کہ یمن کا بحران حل کرنے کی خاطر کویت میں جاری امن مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں میں یمن حکومت صنعاء میں فیصلہ کن فوجی کارروائی کرے گی۔

مصر کے معاصر چینل "ڈریم" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ "ہم فوجی کاررواَئیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل کو پورا وقت دیں گے تاکہ کامیابی حاصل کی جا سکے، تاہم اگر یو این نے کویت میں جاری مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کر دیا تو اس کا فیصلہ کن دور یمن کی آئینی حکومت کی صنعاء میں بھرپور فوجی کارروائی کی صورت میں نکلے گا۔"

ایک سوال کے جواب میں جنرل العسیری نے بتایا کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوج نے مصر سے یمن میں اپنی بری فوج بھجوانے کا مطالبہ نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتحادیوں پر مشتمل زمینی فوج یمن میں داخلے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ ہم اس مقصد کے لئے ہمیں یمنی فوج پر مکمل اعتماد ہے۔ یہ بات مسلمہ طور پر طے ہے کہ اتحادیوں کی کسی بھی فوجی کارروائی کا انحصار یمنی فوج پر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مصری ہوابازوں نے یمن میں فضائی حملے کئے ہیں۔ نیز مصر کی بحری فوج نے عملی طور پر چند کارروائیوں نے حصہ لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یمن میں اتحادی فوج صرف یمنی شہریوں کے بچاؤ کی خاطر موجود ہے۔ ہمارا مقصد حملہ کرنا نہیں اور نہ ہی ہم ریاستی وسائل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یمن میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے اتحادی ترجمان نے بتایا کہ ہماری کوشش ہے کہ ان کارروائیوں میں عام یمنی شہریوں کو کم سے کم گزند پہنچے۔ اس مقصد کے لئے تیر بھدف مہنگا اسلحہ اور میزائل استعمال کئے جا رہے ہیں اور ایسا اسلحہ سرجیکل سٹرائکس کے لئے استعمال ہوتا ہے، جو ہمیشہ اپنے ہدف کو ہی تباہ کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں