.

ہم نے 100 مشاورتی افسران کو شام اور عراق بھیجا : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے دمشق اور بغداد کی حلیف حکومتوں کی سپورٹ کے لیے پاسداران انقلاب کے 100 افسران کو بطور مشیر شام اور عراق بھیجا۔

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب کے زیرانتظم "امام حسين" عسکری کالج کے کمانڈر مصطفی صفاری کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسران کو مشاورتی تربیتی مشن پر بھیجا گیا ہے۔

صفاری نے اس امر کی تصدیق کی کہ " تہران نے ان مشیران کو گزشتہ برس دو سے تین ماہ کی مدت کے لیے دونوں ملکوں میں بھیجا"۔

مذکورہ عسکری ذمہ دار نے ان افسران میں سے متعدد کے ہلاک اور زخمی ہونے ، بعض کے ایران واپس آجانے اور دیگر کئی افسران کے اپنے مقام پر رہ جانے کا حوالہ دیا۔

یاد رہے کہ ایرانی عسکری قائدین یہ دعوی کرتے ہیں کہ شام اور عراق میں ان کی مداخلت بطور "مشیر" کے ہے جب کہ سیاسی ذمہ داران یہ باور کراتے نہِیں تھکتے ہیں کہ اگر شام میں پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج زمینی طور پر نہ لڑ رہی ہوتیں پانچ برس پہلے ہی بشار الاسد کی حکومت گرچکی ہوتی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج کے خصوصی یونٹوں کے اہل کاروں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں سے، جن کے بارے میں تہران کا کہنا ہے کہ ابھی تک 1200 اہل کار مارے جاچکے ہیں، اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ایرانی فورسز بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے شام میں اپوزیشن کے خلاف فرنٹ لائن میں لڑ رہی ہیں۔