شام میں لڑنے والے اکثر نوجوان رضاکار ہیں : پاسداران انقلاب
ایران میں تسنیم نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ بہت سے ایرانیوں نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے شابہ بشانہ لڑنے کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ ایجنسی کے مطابق پاسدران انقلاب میں تعلقات عامہ کے دفتر کے سربراہ رمضان شریف نے بتایا کہ بشار الاسد کی حکومت کا ساتھ دینے کے لیے جانے والے رضاکاروں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔
اس طرح تہران اور بشار الاسد کی حکومت کے درمیان عسکری اتحاد کی خطوط روز بروز سامنے آرہی ہیں۔ اس سے قبل ایران ہمیشہ شامی اپوزیشن کے ان الزامات کی تردید کرتا رہا کہ تہران حکومت اپنے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کو شام میں جھونک رہی ہے۔
گزشتہ ماہ تہران حکومت نے ذکر کیا تھا کہ اس کی اسپیشل فورسز کے عناصر کو مشاورتی کردار کے سلسلے میں شام بھیجا گیا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ وہ صرف پاسداران انقلاب ہی نہیں بلکہ اپنی سرکاری فوج کے ساتھ بھی شامی حکومت کی معاونت کررہی ہے۔
تاہم اس کے بعد ایرانی فوج کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ یہ افراد رضا کار ہیں جو پاسداران انقلاب کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں اور سرکاری فوج کا اس تنازع سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔
اسی سیاق میں مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے یہ بیانات درحقیقت ملک کے اندر عوامی غم و غصے کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش ہے جو شام میں بالخصوص حلب اور خان طومان میں ایرانیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر بپھرے ہوئے ہیں۔ ایرانی میڈیا شام میں پاسداران انقلاب اور اس کے زیرانتظام باسیج ملیشیا کے 100 سے زیادہ اہل کاروں کے مارے جانے کا ذکر کر رہا ہے جن میں پاسداران انقلاب کے سینئر افسران بھی شامل ہیں۔
-
پاسداران انقلاب.. ایرانی مرشد اعلیٰ کی سیاسی گرفت کی مضبوطی کا آلہ کار
ایران میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور مجلس خبرگان کے انتخابات مرشد اعلیٰ، پاسداران ...
مشرق وسطی -
ایرانی پاسداران انقلاب کا تجربہ کار کمانڈر شام میں ہلاک
دمشق کے نواح میں ''دہشت گردوں'' کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا:رپورٹس
بين الاقوامى -
ایرانی فوج کی شام میں براہ راست مداخلت کی تردید
پاسداران انقلاب کی نگرانی میں صرف رضاکار شام میں لڑرہے ہیں: فوجی سربراہ
بين الاقوامى