.

حشد الشعبی داعش بن گئی، فلوجہ میں 17 عراقی شہری ذبح

ایران پرعراق میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج کے ہمراہ لڑنے والی متنازع شیعہ ملیشیا حشد الشعبی نے جنگ زدہ علاقے فلوجہ میں کھلے عام جنگی جرائم کا ارتکاب شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حشد الشعبی نے مشرقی فلوجہ میں الکرمہ کے مقام پر داعش سے تعلق کی آڑ میں 17 عام شہریوں کو ذبح کر دیا ہے۔

عراق کے الانبار صوبے کےسماجی کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر ایک فوٹیج پوسٹ کی گئی ہے، جس میں الحشد الشعبی کے جنگجوؤں کو عراقی شہریوں کو ذبح کرتے دکھایا گیا ہے۔

الانبارکی صوبائی قیادت نے شیعہ ملیشیا کےہاتھوں عام شہریوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ عراق کے سیاسی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ الحشد الشعبی اور داعش دونوں کی کارروائیاں ایک جیسی ہیں اور دونوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

عراق کی علماء کونسل کی جانب سے حشد الشعبی کے جنگجوؤں کے ہاتھوں فلوجہ میں دو مساجد کو اگ لگا کر شہید کئے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ علماء کرام کا کہنا ہے کہ مساجد پر حملے ایران کی کی فرقہ وارانہ ہدایات پر کیے گئے ہیں۔

الانبار کی ضلعی کونس کے چیئرمین صباح الکرحوت نے ’’العربیہ‘‘ چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حشد الشعبی کے ماتحت ’عصائب اہل الحق‘ نامی گروپ نے الکرمہ کے وسط میں واقع ایک تاریخی جامع مسجد کو آگ لگا کر شہید کر دیا۔ شیعہ جنگجوؤں نے مشرقی الکرمہ میں واقع جامع مسجد ابراہیم الحسین کو بھی تاراج کرنے کے بعد وہاں عام شہریوں کے گھروں میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی ہے۔