ایران: مشہد شہر میں اہل سنت کی اکلوتی مسجد بھی بند

اہل سنت کے خلاف ایرانی رجیم کی انتقامی سیاست کا تسلسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی حکومت نے اہل سنت والجماعت مسلک کے ساتھ برتی جانے والی انتقامی پالیسی کے تحت مشہد شہر میں قائم اہل سنت کی اکلوتی مسجد بند کر دی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی مسجد میں با جماعت نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ سے محروم ہو گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشہد شہر کے اہل سنت مسلک کے عالم دین محمد ابراہیم کنانی کا کہنا ہے حال ہی میں ایرانی پولیس نے مشہد شہر میں 13 سال پہلے بنائی گئی جامع مسجد سلمان فارسی پر چھاپہ مارا اور مسجد کی تالانہ بندی کر کے مقامی شہریوں کو نماز باجماعت سے محروم کر دیا۔

علامہ کنانی کا کہنا ہے کہ مشہد کے جس علاقے میں مسجد تعمیر کی گئی تھی وہاں اہل سنت مسلک سے تعلق رکھنے والے 400 خاندان آباد ہیں اور یہ اس آبادی کی واحد مسجد تھی جسے بند کر دیا گیا۔

ایرانی سنی عالم دین کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں مساجد کی تعمیرپر نہ صرف پابندیاں عاید کیے ہوئے ہے بلکہ اہل سنت مسلک سے تعلق رکھنےوالے مسلمانوں کو نماز کے لیے کوئی جگہ مختص کرنے کی اجازت تک حاصل نہیں ہے۔ سرکاری سطح پر اہل سنت مسلک کے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ انہیں باجماعت نمازادا کرنے کی بھی اجازت حاصل نہیں ہے۔

علامہ کنانی کا کہنا تھا کہ مشہد میں بیس سال قبل ایرانی حکومت نے وہاں کی سب سے بڑی جامع مسجد شہید کردی تھی جس کے بعد مسلمانوں کو وہاں نئی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت حاصل نہیں ہے۔ مشہد شہر اور اس کے اطراف میں اہل سنت کے 50 ہزار افراد آباد ہیں جنہوں نے نماز کے لیے 50 چھوٹے چھوٹے ہال مختص کر رکھے ہیں۔ انہیں الگ سے مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں