.

سعودی شوہر کو بیوی کو نان نفقےسے محروم رکھنا مہنگا پڑگیا

عدالت کا شوہرکو 3 ملین اور ماہانہ پانچ ہزار ریال دا کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خانگی امورسے متعلق مسائل نمٹانے والی عدالت نے ایک مقامی شہری کو اپنی بیوی اور بچے کو 32 سال سے گھر سے بے دخل رکھنے اورانہیں نان نفقے سے محروم رکھنے کے جرم میں 3 ملین ریال فوری اور بچے اور بیوی کی کفالت کے لیے ماہانہ 5 ہزار ریال ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

سعودی اخبار ’’المدینہ‘‘ کے مطابق جدہ کی فیملی کورٹ میں ایک خاتون نے اپنے شوہرکے خلاف کیس دائر کررکھا تھا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اس کے شوہر نے طلاق دیے بغیر گذشتہ 32 برس سے اسے گھر سے نکال رکھا ہے۔ شوہر اس کا اور بچے کا نان نفقہ بھی ادا نہیں کررہا ہے۔ اس پرعدالت نے مدعاعلیہ کو عدالت میں طلب کیا اور گذشتہ بتیس سال کا ماہانہ نان نفقے کا حساب لگانے کے بعد اسے 3 ملین ریال کی رقوم بیوی کو یک مشت ادا کرنے اورآئندہ کے لیے ماہانہ پانچ ہزار ریال ادا کرنے کا حکم دیا۔

اس موقع پرمدعیہ کی جانب سے عدالت میں دو گواہ بھی پیش کیےگئے جنہوں نے اس کے دعوے کی تصدیق کی اور بتایا کہ خاتون کے شوہر نے اسے بیٹے کی پیدائش کے بعد سے چھوڑ رکھا ہے اور وہ ان دونوں کے شرعی اور قانونی اخرجات بھی ادا نہیں کر رہا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کی ماہانہ آمد 80 ہزار ریال سے زیادہ ہے۔ عدالت نے بیوی کو 384 ماہ تک نان نفقہ سے محروم رکھنے کی پاداش میں ماہانہ چار ہزار ریال کے حساب سے 15 لاکھ 36 ہزار ریال اور بیٹے کی کفالت کی مد میں 13 لاکھ 44 ہزار ریال اور مجموعی طورپر 28 لاکھ 80 ہزار ریال ادا کرنے کاحکم دیا۔