.

محمد بن سلمان کی امریکی قیادت سے خطے کے بحرانوں پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے دورہ امریکا کے تیسرے روز کانگریس کے ری پبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان اور قائدین سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے شام میں جاری بحران کے علاوہ یمن، لیبیا اور ایران کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

واشنگٹن میں بدھ کے روز شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال رائن سے ملاقات کی۔ انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان متعدد مشترکہ شعبوں میں تعاون اور اس کے فروغ کے طریق کار اور دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تفصیلی بات چیت کی۔

سعودی نائب ولی عہد نے ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون رہ نما نینسی پیلوسی کے علاوہ بعض دوسرے ارکان اور قائدین سے بھی ملاقات کی۔انھوں نے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان سیاسی اور سکیورٹی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون میں پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

بات چیت میں خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی ایرانی سرگرمیوں اور 11 ستمبر کے حملوں کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی جانب سے اخفاء میں رکھے گئے "28 صفحات" پر بھی غور کیا گیا۔ بہت سے ذمہ داران نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان صفحات میں کسی طور سعودی عرب کی مذمت شامل نہیں ہے۔

اس کے علاوہ سعودی نائب ولی عہد نے واشنگٹن میں اپنی جائے قیام پر امریکی وزیر تجارت پینی پرٹزکرسے ملاقات میں تجارت کے میدان اور دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ مفادات کے امور پر بات چیت کی۔

سعودی عرب کے کردار کی تعریف

اس دوران امریکی محکمہ خارجہ نے شامی بحران کے حل کے سلسلے میں "سعودی عرب کے قائدانہ کردار" اور امریکا کے ساتھ تعاون کو بھرپور طریقے سے سراہا۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کے مطابق داعش تنظیم کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں سعودی عرب بانی رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ " اگر سعوی کردار نہ ہوتا تو شام کو سپورٹ کرنے والے تقریبا 20 ممالک کا گروپ تشکیل نہیں پاتا جو شام کے تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کی پیش رفت کے سلسلے میں سعودیوں نے ہماری رہ نمائی کی ہے اور ابھی ہمارے سامنے ایک طویل راستہ باقی ہے"۔

دیگر ملاقاتیں

سعودی نائب ولی عہد نے منگل کے روز امریکا کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ جان برینن اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمس کلیبر سے ورجینیا میں ملاقات کی اور ان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے علاوہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی۔

جان برینن نے "العربيہ" کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں سعودی عرب کے ساتھ بالخصوص انسداد دہشت گردی کے میدان میں تعلقات کو بہترین قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 11 ستمبر کے حملوں کی تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ان حملوں میں سعودی حکومت کے بطور ریاست یا ادارے یا سعودی اعلی ذمہ داران کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد موجود نہیں۔ برینن کے مطابق وہ رپورٹ کے اُن 28 صفحات کو جاری کرنے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ سب لوگ یہ ثبوت دیکھ لیں کہ سعودی حکومت کسی طور ملوث نہیں رہی ہے۔

مشرق وسطی کے بحرانوں کے حل کے لیے جن میں شام کا بحران اور یمن کی صورت حال سرفہرست ہیں، الریاض کی خواہش کو باور کرانے اور اس کے علاوہ امریکا کے بڑے سرمایہ کاروں کے سامنے سعودی ویژن 2030 کے منصوبے کی تفصیل اور قومی تبدیلی پروگرام 2020 پر عمل درامد کی بریفنگ کے حوالے سے سعودی نائب ولی عہد کا دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔

سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں تزویراتی تعلقات، دوطرفہ تعاون اور "تاریخی شراکت داری" پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ انھوں نے یمن، شام، عراق اور داعش تنظیم کے خلاف جنگ ایسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

سعودی ولی عہد ایک بڑے وفد کے ساتھ امریکا کے سرکاری دورے پر ہیں۔ وفد میں سعودی وزیر توانائی، وزیر خارجہ، وزیر ذرائع ابلاغ، وزیر تجارت اور عسکری قائدین شامل ہیں۔

توقع ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان جمعرات کے روز امریکی صدر باراک اوباما سے اور جمعے کو امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر سے ملاقاتیں کریں گے۔ واشنگٹن کے بعد سعودی نائب ولی عہد نیویارک اور کیلی فورنیا بھی جائیں گے۔