.

شامیوں کا قتل عام، ایران میں 14ہزار افغان اجرتی قاتلوں کی بھرتی

بشارالاسد کو بچانے کے لیے جنگجوؤں پر چار ارب ڈالر خرچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع کے لیے افغانی پناہ گزینوں کو جنگ کا ایندھن بنانے کی رپورٹس اب کوئی بات نہیں رہی۔ ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے سنہ 2011ء کے بعد سے شامی میں جاری بغاوت کی تحریک کچلنے میں صدر کی مدد کے لیے 12 سے 14 ہزار افغان جنگجو بھرتی کیے جنہیں ’فاطمیون‘ ملیشیا میں منظم کیا گیا۔ ایران ان اجرتی قاتلوں پر سالانہ 2 کروڑ 60 لاکھ تومان یعنی 76.5 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کر رہا ہے۔ اس اعتبار سے گذشتہ پانچ سال کے دوران ایران جنگجوؤں کی بھرتی، ان کی عسکری تربیت اور دیگر امور پر کم سے کم چار ارب ڈالر کی رقم خرچ کر چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ تمام تفصیلات ایران کے ہفتہ روزہ فارسی جریدے’رمز عبور‘ میں شائع ہوئی ہیں۔ رمز عبور ایران کے قدامت پسند حلقوں کا مقرب جریدہ سمجھا جاتا ہے۔ جریدے میں سیکیورٹی سے متعلق بھی کئی اہم خبریں شائع کی گئی ہیں اور پہلی بار یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران میں مقیم شیعہ افغان پناہ گزینوں کو شام کی جنگ کا ایندھن بنانے کے لیے پانی کی طرح پیسہ بہایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں فاطمیون ملیشیا کے دور بریگیڈ کمانڈر کمانڈر محمد حسن حسینی کا ایک انٹرویو بھی شائع کیا گیا ہے۔ حسینی تین ہفتے قبل شام کے تدمر شہرمیں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہو گیا تھا۔

حسینی ان 60 افغان جنگجوؤں کے گروپ میں شامل تھا جنہیں ایرانی پاسداران انقلاب نے شام جنگ کے لیے بھرتی کرنے کے بعد عسکری تربیت مہیا کی تھی اور انہیں شام کے اللاذقیہ شہر پہنچایا گیا تھا۔

اپنی ہلاکت سے قبل مسٹر حسینی نے انٹرویو میں کہا تھا کہ شام میں جنگ لڑنے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد بارہ سے چودہ ہزار کے درمیان ہے۔ ان میں سے ہر جنگجو کو ماہانہ 500 ڈالر معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ گویا ایران ان افغان جنگجوؤں کو سالانہ صرف تنخواہوں کی مد میں 76 ملین سے ڈالر سے زاید رقم خرچ کر رہا ہے۔ گذشتہ پانچ برسوں میں چار ارب ڈالر سے زاید رقم خرچ کر چکا ہے۔

جنگجوؤں کے اہل خانہ کی خامنہ ای سے ملاقات

شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑتے ہوئے مارے جانے والے فوجیوں اور غیرسرکاری ملیشیا کے جنگجوؤں کی جہاں سرکاری اعزاز اور فوجی پروٹوکول کے ساتھ تدفین کی جاتی ہے وہیں گاہے بہ گاہے جنگجوؤں کے اہل خانہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقاتیں بھی کرتے رہتے ہیں۔

رواں سال مارچ میں ایران میں عید نوروز کے موقع پر شام میں لڑنے والے افغان جنگجوؤں کے اہل خانہ نے آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی تھی۔

ایرانی میڈیا کی جانب سے ایک فوٹیج نشر کی گئی تھی جس میں سپریم لیڈر کو یہ شام کی جنگ کے لیے مزید جنگجو بھرتی کرنے،پاسداران انقلاب میں مزید بھرتیاں کرنے اور عراق اور شام میں لڑنے والے گروپوں کی افرادی قوت بڑھانے کی ہدایت کرتے دیکھا گیا تھا۔

گذشتہ مئی میں ایرانی مجلس شوریٰ نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی تھی جس میں شیعہ ملیشیا کے مقتولین کے اہل خانہ کو ایران کی شہریت دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس قانون سے فائدہ اٹھانے والے جنگجوؤں کے اہل خانہ میں سے بیشتر کا تعلق افغانستان اور پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔

فاطمیون بریگیڈ سے فیلق تک

ایرانی پاسداران انقلاب کی نیم سرکاری ملیشیا ’فاطمیون‘ ایران میں موجود افغان جنگجوؤں پر مشتمل تنظیم ہے۔ شروع میں اسے ایک بریگیڈ کی حیثیت دی گئی تھی مگر اب یہ ایک فیلق کا درجہ رکھتی ہے۔

فاطمیون بریگیڈ کا ایک سابق سربراہ علی رضا توسلی بھی افغانی پناہ گزین تھا۔ اسے فروری 2015ء کو درعا میں باغیوں کے ساتھ لڑائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق علی رضا توسلی شام میں جنرل قاسم سلیمانی کا کارندہ خاص تھا۔

فاطمیون بریگیڈ کا نام پہلی بار 2012ء کے آخر میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاسداران انقلاب نے افغانستان کے فارسی بولنے والے ہزارہ قبیلے کے لوگوں کو اس گروپ میں شامل کرنے کے لیے ٹریننگ دینا شروع کی تھی۔ ٹریننگ کا سلسلہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ملیشیا فیلق القدس کی نگرانی میں جاری رہا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ بتاتے ہیں کہ حکومت اپنے ہاں مقیم افغان پناہ گزینوں کو بلیک میل کرتے ہوئے ان کے مالی مسائل کی آڑ میں انہیں شام کی جنگ میں جھونک رہی ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے اپنی رپورٹ مجریہ نومبر 2013ء میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ملک میں مقیم ہزاروں افغان باشندوں کو جبرا جنگ کے لیے بھرتی کرنا شروع کیا ہے۔

کم عمر جنگجو

شام کی جنگ میں بشارالاسد کے دفاع کے لیے جہاں بڑی عمر کے افغان باشندوں کو بھرتی کیا جاتا ہے وہیں کم عمربچوں کو بھی اس جنگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔ گذشتہ اپریل کے دوران شام میں مختلف واقعات کے دوران فاطمیون ملیشیا کے 20 جنگجو ہلاک ہوئےتھے جن میں سے چار لڑکوں کی عمریں 16 اور 17 سال کے درمیان تھیں۔

گمنام شناخت

شام کی جنگ میں ایران کی جانب سے بھرتی کرائے گئے اجرتی قاتلوں میں سے کئی ایسے بھی ہیں جن کی شہریت کی درست طور پر شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

انصار حزب اللہن نامی ایک گروپ کے سربراہ جنرل سعید قاسمی نے گذشتہ ماہ اس وقت حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب شام میں لڑتے ہوئے مارے جانے والے پاکستانی اور ایرانی جنگجوؤں کو قم شہر کے قبرستانوں میں دفن کیا گیا اور حکومت کی جانب سے انہیں ’نامعلوم‘ افراد قرار دیا گیا تھا۔

جنرل قاسمی کا کہنا تھا کہ حکومت شام میں ہلاک ہونے والے ایرانیوں اور دوسرے ملکوں کے جنگجوؤں کے ساتھ کھلم کھلا امتیازی سلوک کررہی ہے۔ شام میں ہلاک ہونے والے ایرانیوں کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے جب کہ افغانستان اور پاکستانی جنگجوؤں کو کسی اعزاز کے بنا ہی چپکے سے درگور کر دیا جاتا ہے۔