.

مسجد نبوی اور قطیف میں حملے کس نے کئے؟ تفصیلات جاری

حملوں کے شبے میں گرفتار سعودیوں کے ساتھ 12 پاکستانی بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو نشانہ بنانے کی شرمناک کوشش کے مرتکب حملہ آور کی شناخت جاری کر دی ہے۔ اس حملے میں چار سیکیورٹی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

وزارت کے مطابق سوموار کو کیا جانے والا حملہ 26 سالہ سعودی شہری نائر مسلم حماد النجدی نے کیا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' کی جانب سے جاری کردہ وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ نائر نشے کا عادی تھا۔

وزارت داخلہ نے اسی روز مشرقی شہر قطیف میں ہونے والے خودکش حملے کے ذمہ داروں کے نام بھی جاری کئے۔ ان میں 23 سالہ عبدالرحمن صالح محمد العِمِر شامل تھا۔ عبدالرحمن پر ماضی میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث زیر حراست قیدیوں کی رہائی کے لئے بلوا کارروائیاں منظم کرنے کا الزام تھا۔ دوسرے دو حملہ آور بیس سالہ إبراهيم صالح محمد العِمِر اور بیس سالہ عبدالكريم إبراهيم محمد الحسِنِي تھے۔

بیان کے مطابق ان میں کسی نے بھی سعودی قومی شناختی کارڈ حاصل نہیں کیا تھا۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق تحقیقات کے نتیجے میں 12 پاکستانیوں اور 7 سعودیوں سمیت 19 دوسرے مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ مدینہ، قطیف اور جدہ کے حملوں میں ملوث ہیں۔

بیان کے مطابق مدینہ اور قطیف میں ہونے والے دہشت گرد حملہ آوروں کے جسمانی معائنے میں 'نائٹرو گلائسرین' نامی دھماکا خیز مواد کی موجودگی کے آثار ملے ہیں۔ ایسا ہی مواد جدہ کے سلیمان فقیہ ہسپتال کے پارکنگ ایریا میں ہونے والے دھماکے کی جگہ سے ملا، تاہم حکام مزید ٹیسٹ کر رہے ہیں۔پیر کے روز ہونے والے دھماکے رمضان المبارک کے خاتمے سے ایک دن قبل ہوئے۔ مدینہ میں عسکریت پسندوں کے حملے ایک عدیم النظیر کارروائی تھے۔ اس شہر کو دنیائے اسلام کا دوسرا مقدس ترین شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جس کی بنیاد اسلام کے آخری پیغمبر نے رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ بھی اسی شہر کی پرشکوہ مسجد نبوی میں واقع ہے۔