عراق: بدعنوانیوں کی تحقیقات کے لیے اسپیکر کو حاصل استثنیٰ ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی پارلیمان نے اسپیکر اور دو ارکان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے انھیں حاصل استثنیٰ ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اسپیکر سلیم الجبوری نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے خود کو حاصل استثنیٰ ختم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔اس کے بعد پارلیمان میں موجود 237 ارکان میں سے اکثریت نے سلیم الجبوری اور دو ارکان محمد الکربولی اور طالب المعماری کو حاصل پارلیمانی استثنیٰ ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

سلیم الجبوری اس کے بعد ایک عدالتی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے جہاں انھوں نے وزیر دفاع خالد العبیدی کی جانب سے عاید کردہ الزامات کا جواب دیا۔انھوں نے اپنے خلاف عاید الزامات کی تردید کی اور کہا کہ وزیر دفاع نے کرپشن کو مسترد کرنے پر ان کے خلاف یہ الزامات عاید کیے تھے۔

واضح رہے کہ عراقی حکومت میں اعلیٰ سے ادنیٰ حکام تک ہر طرف کرپشن کا دور دورہ ہے۔عراقی شہری ان بدعنوانیوں کے خلاف گذشتہ سال کے دوران متعدد مرتبہ احتجاجی مظاہرے کرچکے ہیں مگر حکومت نے اصلاحات کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔

عراقی پارلیمان میں نئی کابینہ کی تشکیل کے معاملے پر بھی شدید اختلافات رہے ہیں اور روایتی سیاست دانوں نے عوامی مطالبے کے مطابق ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی کابینہ کی منظوری نہیں دی تھی۔

پارلیمان میں یہ نیا تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراقی فورسز اور اس کی اتحادی ملیشیائیں شمالی شہر موصل کا داعش سے کنٹرول واپس لینے کے لیے ایک بڑے حملے کی تیاریوں میں ہیں۔داعش نے اس شہر پر جون 2014ء سے قبضہ کررکھا ہے۔

خالد العبیدی اور سلیم الجبوری دونوں ہی سینیر سنی عرب سیاست دان سمجھے جاتے ہیں۔ان کے درمیان تنازعہ موصل میں داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے قبل کوئی اچھی خبر نہیں ہے اور اس سے شیعہ اکثریتی ملک میں سنی اقلیت کا اتحاد بھی متاثر ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں