.

"دنیا کی بدترین جگہ" کے بارے میں جانیے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے درالحکومت دمشق سے 30 کلومیٹر کی دوری پر صیدنایا کی بدنام زمانہ جیل واقع ہے جس میں 2011ء میں انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد سے اب تک ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ جیل کی انتہائی کڑی نگرانی کی وجہ سے دور یا قریب سے اس کی تصویر حاصل کرنا دشوار امر بن گیا ہے۔ یہاں تک کہ رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں بھی جیل کی عمارت کو 3D گرافکس کے ذریعے پیش کر کے عمارت کی تفصیلات اور اس کے اندر قیدیوں کے ساتھ معاملات کو بیان کیا گیا ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے برطانیہ میں لندن یونی ورسٹی کے گولڈ اسمتھ کارپوریشن کے تعاون سے جاری رپورٹ میں اس جیل کو "دنیا کی بدترین جگہ" قرار دیا ہے۔

کارپوریشن نے جیل کے سابقہ قیدیوں کی گواہیوں کا سہارا لے کر جیل کے ڈھانچے اور اندر موجود اجتماعی اور انفرادی جیل خانوں کی تصاویر تیار کی ہیں۔

اس حوالے سے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے فلپ لوتھر کا کہنا ہے کہ " تصوراتی ماڈل کے ذریعے ان انفرادی قید خانوں کی فضاؤں کو پیش کیا گیا ہے جس کے اندر قیدی رہتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ آوازیں بھی شامل کی گئی ہیں جو قیدی سنا کرتے تھے"۔

سابقہ قیدیوں نے تکنیکی ماہرین کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر ان تجربات کے بارے میں تفصیل سے بتایا جن کا انہوں نے پوچھ گچھ سے پہلے اور بعد میں اذیت رسانی اور تشدد کی شکل میں سامنا کیا تھا۔

لوتھر نے بتایا کہ " پوچھ گچھ کے مقصد سے تشدد پہلے کیا جاتا تھا اور یہ انٹیلجنس ایجنسیوں کی جانب سے ہوتا تھا۔ تاہم صیدنایا جیل میں تشدد سزا اور احتساب کے مقصد سے ہوتا ہے"۔

عام طور پر سزا کا موجب بننے والے الزامات میں حکومت مخالف مظاہروں کا انعقاد یا شامی اپوزیشن کے ساتھ تعاون شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ کے مطابق سال 2011ء سے اب تک شامی حکومت کی جیلوں میں 2 لاکھ سے زیادہ افراد قید یا لاپتہ ہیں۔