"مجھے پانی دو".. ملبے کے نیچے سے ایک نئے عمران کی پُکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام کے شہر حلب میں ملبے سے نکالے جانے والے بچے عمران کی الم ناک کہانی اور اس کی "خاموش" تصویر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

تاہم عمران کے بعد بھی نئی کہانیوں اور وڈیو کلپس کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے بشار الاسد کی فوج کی جانب سے پیچھے چھوڑ جانے والے ملبے کے نیچے سے ایک اور 11 سالہ بچے " احمد " نے نیا جنم لیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے پر نشر کی جانے والی وڈیو میں ریسکیو ٹیموں کو ایک بچہ ملا جس کا جسم ملبے کے درمیان معلق تھا اور چہرہ خون سے ڈھکا ہوا تھا۔ امدادی کارکنوں کی جانب سے تقریبا ایک گھنٹے کی محنت کے بعد احمد کو باہر نکال لیا گیا۔

کارروائی کے دوران احمد درد کے سبب رو رہا تھا ، اس دوران اس سے کبھی قرآن پڑھنے اور کبھی باتیں کرنے کو کہا جاتا رہا تاکہ اس کو جاگتا رکھ کر ملبے سے نکالا جا سکے۔

تھکن سے چُور احمد بعض مرتبہ چلا کر کہتا " میں پیاسا ہوں میں پیاسا ہوں میرے لیے پانی لاؤ"۔

کئی مرتبہ کی کوششوں کے بعد بالآخر احمد کو زندہ نکال لیا گیا جب کہ اس کا پورا خاندان دنیا سے رخصت ہو چکا ہے جن میں والد ، والدہ ، بہن اور اس کی دادی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ کے مطابق رواں ماہ اگست کے دوران حلب میں 140 سے زیادہ بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ خیال ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پورے شام میں تقریبا 50 ہزار بچے موت کی نیند سلا دیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں