.

ایرانی نیوکلیئر وفد میں مغربی جاسوسوں کی سرائیت کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذمہ داران اور ارکان پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ نیوکلیئر معاہدے کے لیے مذاکرات کرنے والی ایرانی ٹیم میں شامل مزید جاسوسوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر برطانیہ اور امریکا کے مفاد میں کام کرنے کا الزام ہے۔ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی ٹیم اور مغربی ممالک کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کے نتیجے میں جولائی 2015 میں ویانا معاہدہ طے پایا تھا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ وزارت انٹیلجنس کی جانب سے عبدالرسول دری اصفہانی کے علاوہ مزید جاسوں کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔ اصفہانی کی گرفتاری کا اعلان 16 اگست کو کیا گیا تھا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان کے مطابق " یہ جاسوس امریکا اور برطانیہ کے مفاد کے لیے مذاکراتی ٹیم میں خفیہ طور پر داخل ہوئے"۔

عبدالرسول دری اصفہانی جو کہ مغربی طاقتوں کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے پر عمل درامد کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے رکن کے طور پر کام کر رہا تھا اس پر برطانیہ کے ایجنٹ ہونے کا الزام ہے اور وہ اس جاسوسی کے بدلے باقاعدہ تنخواہ وصول کر رہا تھا۔

عبدالرسول درّی اصفہانی کون ہے ؟

ایرانی پارلیمنٹ کے سابق رکن حمدی رسائی نے بدھ کے روز اپنے بیان میں انکشاف کیا تھا کہ عبدالرسول دری اصفہانی ویانا مذاکرات کے دوران ایرانی مذاکراتی ٹیم میں بینکنگ کے امور کا ذمہ دار تھا۔ اس نے اس دوران ماہانہ 7500 یورو تنخواہ کے مقابل غیرملکی اداروں کو ایران کی معیشت سے متعلق معلومات فروخت کی تھیں۔

رسائی نے انسٹاگرام پر پوسٹ کیے جانے والے بیان میں بتایا کہ اصفہانی کے پاس ایران کے علاوہ برطانیہ کی بھی شہریت ہے۔

دوسری جانب بنیاد پرست رکن پارلیمنٹ جواد کریمی قدوسی جو کہ ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے رکن بھی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اصفہانی کو واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے جیسن رضائیان کے اعترافات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ جیسن کو دو سال سے بھی پہلے تہران میں امریکا کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں وہ جنوری میں امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کی رہائی کی مشہور ڈیل کے تحت رہا ہو گیا۔

قدوسی نے انکشاف کیا کہ پاسداران انقلاب کی انٹیلجنس کی جانب سے پارلیمنٹ کو فراہم کی جانے والی معلومات کے مطابق جاسوسی اور نیوکلیئر مذاکرات کے بارے میں معلومات امریکا کو فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیے جانے والوں میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے قریب دو شخصیات بھی شامل ہیں۔

افشا ہونے والی معلومات کے مطابق ایرانی انقلاب سے قبل اصفہانی امریکی وزارت خزانہ میں کام کرتا تھا۔ اس نے کچھ عرصہ ایرانی وزارت دفاع میں انسانی حقوق کے ایک تربیت یافتہ اہل کار کے طور پر بھی کام کیا اس دوران وہ امریکا میں ایران سے متعلق انسانی حقوق کے معاملات کی پیروی کرتا تھا۔ تاہم کچھ عرصے بعد وزارت کو انتباہ ہوا کہ امریکی عدالتوں میں جاری ہونے والے تمام فیصلے ایران کے خلاف ہو رہے ہیں ، جس کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ اس شخص کو اس پوزیشن پر نہیں ہونا چاہیے۔

معلومات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اصفہانی اس کے بعد کینیڈا چلا گیا اور وہاں کی شہریت حاصل کی۔ پھر وہاں سے وہ ایران لوٹ آیا اور ایرانی مرکزی بینک کے نمائندے کے طور پر مذاکراتی ٹیم کا ایک رکن بن گیا۔ قدوسی کے مطابق اصفہانی ایران کے مرکزی بینک سے تنخواہ کے علاوہ "برطانیہ – امریکا" نیٹ ورک سے بھی 7500 پاونڈ بطور تنخواہ وصول کر رہا تھا۔

رکن پارلیمنٹ نے تصدیق کی کہ اصفہانی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے دورہ ترکی کے دوران ان کے وفد میں شامل تھا۔

امریکا نے ظریف کے گرد جاسوس چھوڑ رکھے تھے

قدوسی کے مطابق واشنگٹن نے ایرانی مذاکراتی ٹیم میں سرائیت حاصل کر لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ "ظریف کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل ہی امریکیوں کو ایرانی وزیر خارجہ کے مواقف معلوم ہوتے تھے، غالب گمان ہے کہ اصفہانی بھی ان میں سے ایک ہے جو معلومات کو باہر نکالتے تھے"۔

ایرانی پارلیمنٹ میں ایک آزاد رکن حسین علی حاجی دلیغانی نے انکشاف کیا کہ عبدالرسول دری اصفہانی برطانیہ میں امریکی وزارت خزانہ کا نمائندہ تھا۔