.

اہم ترین داعشیوں کی ہلاکت : دستاویزات، منحرفین اور انٹیلجنس کا کردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر حلب میں بین الاقوامی اتحاد کے حملے میں داعش تنظیم کے سرکاری ترجمان ابو محمد العدنانی کی ہلاکت دہشت گرد تنظیم پر انتہائی شدید ضرب ہے۔

العدنانی تنظیم کو تنظیم کا ایک اہم رہ نما شمار کیا جاتا ہے۔ وہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے علاوہ تنظیم کے بانی ارکان میں زندہ باقی رہ جانے والا آخری شخص تھا۔ العدنانی بیرونی دنیا میں حملوں کی کارروائیوں کا اعلی ذمہ دار تھا۔

العدنانی کی ہلاکت کے ساتھ ہی داعش تنظیم چند ماہ کے دوران اپنے 3 سرکردہ رہ نماؤں سے ہاتھ دھو چکی ہے۔

رواں ماہ 20 اگست کو عراق میں مشترکہ آپریشنز کی قیادت نے شمالی شہر موصل پر عراقی فضائیہ کے حملے میں داعش تنظیم کے 19 کمانڈروں کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔

رواں سال جولائی میں داعش نے اپنے ایک اہم ترین کمانڈر ابو عمر الشیشانی کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ امریکی محکمہ دفاع نے موصل کے جنوب میں شرقاط کے علاقے میں مارے جانے والے الشیشانی کو داعش تنظیم کا "وزیر جنگ" قرار دیا تھا۔

اسی ماہ میں عراقی فورسز کی جانب سے کرمہ اور فلوجہ کو آزاد کرانے کی کارروائیوں کے دوران داعش کے سربراہ البغدادی کا ایک نائب حجی حمزہ جو والی فلوجہ کے نام سے جانا جاتا تھا، اپنے متعدد معاونین سمیت مارا گیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ داعش تنظیم کی قیادت کو اتنی درستی کے ساتھ کس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے؟

دستاویزات جمع کرنا

اس شدت پسند تنظیم کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی قیادت جو اہم طریقے اپناتی ہے ان میں ایک طریقہ داعش سے متعلق دستاویزات کا جمع کرنا بھی ہے۔ تنظیم کے خلاف آپریشنز کے دوران ہاتھ لگنے والے ان دستاویزات سے داعش کے بہت سے راز اور اس کی نقل و حرکت کا انکشاف ہو جاتا ہے۔

مثلا مئی 2015 میں امریکی اسپیشل فورسز نے شام کے شہر دیرالزور کے نواح میں اتر کر ایک آپریشن میں داعش تنظیم میں " تیل کا ذمہ دار" شمار کیے جانے والے ابو سیاف کو ہلاک کردیا اور اس کی بیوی کو گرفتار کر لیا جو کہ تنظیم کے بارے میں بہت سی معلومات رکھتی تھی۔ اسی طرح تنظیم کے اقتصادی امور سے متعلق دستاویزات بھی ہاتھ آئے۔

چند ہفتے قبل عراق میں امریکی فوجی ترجمان کرنل کرس گاروَ نے اعلان کیا تھا کہ شمالی شام میں بین الاقوامی اتحاد کے زیر قیادت داعش کے خلاف لڑنے والی فورسز نے تنظیم سے متعلق دستاویزات اور معلومات کا ایک خزانہ جمع کر لیا ہے۔

گاروَر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اتحاد اس مواد کے تجزیہ کا ارادہ رکھتا ہے جس کا حجم چار ٹیرا بائٹ کی ڈیجیٹل معلومات سے زیادہ ہے جس کا زیادہ تر حصہ عربی زبان میں ہے۔

داعش سے منحرف عناصر

اس کے علاوہ حالیہ چند ماہ میں داعش تنظیم کے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد منحرف ہو کر علاحدہ ہوگئی۔ ان میں سے بعض نے داعش کے خلاف لڑائی میں شامل سکیورٹی اداروں کو قیمتی معلومات بھی فراہم کیں۔

مثلا امریکی جریدے "ڈیلی بیسٹ" نے داعش تنظیم سے متعلق خصوصی خفیہ دستاویزات شائع کیے جن " احمد عبدو فورسز" کے میڈیا ترجمان ماهر الحمدان نے افشا کیا تھا۔ تنظیم کی قیادت کے درمیان خط و کتابت پر مشتمل دستاویزات سے داعش کے ارکان کی تنخواہوں کا بھی انکشاف ہوا۔ اسی طرح تنظیم کے دفاتر میں بیوروکریسی پر اعتماد کی بھی تصدیق ہوئی۔

اپریل میں داعش سے علاحدہ ہوجانے والے ایک رکن نے تنظیم کے 22 ہزار افراد کی ذاتی معلومات پر مشتمل دستاویزات حوالے کیے۔

افشا ہونے والے یہ دستاویزات اہم اور بنیادی معلومات کی حامل تھیں جن سے تنظیم کے افراد، ان کے اہل خانہ ، رہائش کے پتوں اور ان کے آبائی وطن کے بارے میں انکشاف ہوا۔

تنظیم کی انٹیلجنس میں سرائیت

دوسری جانب داعش کے خلاف برسرپیکار بین الاقوامی انٹیلجنس جاسوسوں کے ذریعے تنظیم میں سرائیت کر جانے پر کام کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر ڈیلی بیسٹ کی جانب سے شائع کردہ ایک خط جو والی دمشق کے نام لکھا گیا۔ اس خط میں والی کو دارالحکومت دمشق سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع شہر ضمیر میں جاسوسی کی کارروائیاں روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوجانے سے آگاہ کیا گیا۔

شدت پسند تنظیم کے بڑے اور نمایاں کمانڈروں اور ارکان کو درستی کے ساتھ نشانہ بنایا جانا، اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ انٹیلجنس معلومات کتنی زیادہ درست ہیں یہاں تک کہ ان افراد کے موجود ہونے کے مقامات بھی متعین ہیں۔

امریکی انٹیلجنس کی کوشش کے علاوہ بین الاقوامی اتحاد کے ممالک کی انٹیلجنس بھی بھرپور تعاون کر رہی ہیں جن میں ترکی اور عراقی کی انٹیلجنس شامل ہیں۔

عراقی پارلیمنٹ میں امن اور دفاع کی کمیٹی کے رکن موفق الربیعی نے انکشاف کیا تھا کہ "عراقی انٹیلجنس ادارہ موصل شہر میں داعش تنظیم کے معلومات سے متعلق اداروں میں سرائیت کر جانے میں کامیاب ہو گئی اور اہم معلومات حاصل کرلیں"۔

داعش کی جانب سے بارہا اعلان کیا گیا کہ "بیرونی اداروں" کے لیے جاسوسی کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر تلاش کرنے سے ایسی درجنوں کوششیں مل جائیں گی۔ اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ داعش اندر سے کمزور اور کھوکھلی ہوچکی ہے اور اس طاقت کو کھو چکی ہے جس کا وہ دعوی کیا کرتی تھی۔