.

شامی فورسز کا حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ اہم علاقے پر دوبارہ کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور اس کی اتحادی شیعہ ملیشیاؤں نے شمالی شہر حلب کے جنوب میں واقع تزویراتی لحاظ سے اہمیت کے حامل علاقے الراموسہ پر قبضہ کر لیا ہے اور باغیوں کو گذشتہ ایک ماہ کے دوران حاصل ہونے والی تمام جنگی کامیابیوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔

شامی فورسز نے راموسہ پر قبضے کے بعد حلب کے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حصوں کی دوبارہ ناکا بندی کردی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ سرکاری فورسز اور ان کے اتحادی جنگجوؤں نے باغیوں ،اسلامی جنگجوؤں اور جہادی گروپوں کے خلاف شدید جھڑپوں کے بعد راموسہ کے علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کیا ہے۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ شامی فوج کو عراقی اور ایران کی حکومت نواز ملیشیاؤں کی اسی ہفتے شہر کے جنوبی حصے میں آمد کے بعد یہ کامیابی ملی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ باغیوں کا ایک رہائشی کمپلیکس اور ایک اسکول پر بدستور قبضہ برقرار ہے۔

انھوں نے کہا کہ شامی حکومت حلب کے محاذ پر شکست کو برداشت نہیں کرسکتی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ سب کچھ کھو بیٹھے گی۔

شامی باغیوں اور ان کے اتحادی جنگجوؤں نے 31 جولائی کو حکومت کا حلب مشرقی حصے کے گرد جاری محاصرہ ختم کرانے کے لیے ایک بڑا حملہ کیا تھا۔وہ اس حملے کے ایک ہفتے کے بعد راموسہ کے ذریعے ایک شاہراہ کو کھولنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن اب شامی فورسز نے ان سے حلب کے جنوب میں واقع قریباً یہ تمام علاقے چھین لیے ہیں۔