اسرائيل کے نام کے سبب الجزائر کے اسکولوں میں " تناؤ"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

الجزائر میں وزارت تعلیم نے دوسری جماعت کے نصاب میں شامل جغرافیہ کے مضمون کی کتاب کو طلبہ سے واپس لے لیا ہے۔ کتاب میں شامل ایک نقشے میں فلسطین کا نام اسرائیل کے نام سے تبدیل ہوگیا تھا جس نے ملک میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔

یہ معاملہ تیزی سے الجزائر کی پارلیمنٹ تک پہنچ گیا اور اس نے ملکی بجٹ اور سرمایہ کاری کے نئے قوانین جیسے دیگر معاملات پر بحث کو پیچھے کر دیا۔

اس غلطی نے سوشل میڈیا اور ملک کے بڑے اخبارات اور چینلوں پر طوفان بپا کر دیا ہے۔ تمام فورموں پر ملک کی وزیر تعلیم کو رخصت کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو اپنے تقرر کے وقت سے ہی متنازعہ کردار کی حامل رہی ہیں۔

دوسری جانب وزارت تعلیم نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اسکولوں سے 20 لاکھ سے زیادہ کتابوں کو واپس لینے کا حکم جاری کر دیا۔ ساتھ ہی اس غلطی کے سرزد ہونے کی مکمل تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم خاتون وزیر تعلیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ معاشی سنگینی کے زمانے میں سرکاری رقم برباد ہونے کے حوالے سے بازپرس کی جانی چاہیے۔ ادھر خاتون وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ کتاب میں صرف نقشے کے صفحے کو تبدیل کر دیا جانا چاہیے۔

مبصرین کے نزدیک یہ آخری غلطی تابوت میں آخری کیل ہے۔ وزیر تعلیم کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کے شعبے نے بہت سے اسکینڈل دیکھے ہیں جن کی وجہ سے ان پر تنقید اور نکتہ چینی کے دروازے کھل گئے۔ یہاں تک کہ ان پر فرانسیسی ایجنڈے پر عمل درامد کا الزام بھی عائد کیا گیا جس کی خاتون وزیر تعلیم نے یکسر تردید کی۔

جغرافیہ کی کتاب کی اس غلطی کے نتیجے میں وزیر تعلیم برطرفی اور احتساب کے مطالبات کے بھنور میں پھنس گئی ہیں۔ اس طرح الجزائر کو درپیش تنازعات میں ایک نئے تنازع کا اضافہ ہوا ہے جب کہ ملک پہلے ہی سیاسی ، اقتصادی ، ثقافتی اور تیل کی قیمتیں گرجانے کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورت حال سے متعلق مسائل سے دوچار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں