.

سعودی عرب میں تیل پائپ لائن اڑانے کی سازش ناکام!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سیکیورٹی فورسز نے تازہ کارروائیوں کے دوران شدت پسند گروپ دولت اسلامی ’داعش‘ سے وابستہ جن تین سیلز کو پکڑا ہے ان میں سے ایک گروپ الدوادمی شہرمیں سب سے بڑی تیل پائپ لائن کو دھماکے سے اڑانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ سعودی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے داعش کی خطرناک سازش ناکام بنا دی ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق داعشی دہشت گردوں نے الدوادمی گورنری کے شمال مغرب میں 300 کلو میٹر دور لبخہ اور حویتہ قصبوں سے گذرنے والی تیل پائپ لائن کو دھماکے سے اڑانے کی سازش تیار کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق جس شدت پسند کو سعودی عرب میں تیل پائپ لائن دھماکے سے اڑانے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا اسے براہ راست شام سے ہدایات مل رہی تھیں۔ دہشت گرد کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے سعودی عرب میں کسی تیل تنصیب کا انتخاب کرے اور مخصوص جگہ پر بم نصب کرکے اسے دھماکے سے اڑا دے۔

دہشت گردی کی اس واردات کی ذمہ داری عقاب العتیبی نامی دہشت گرد کو سونپی گئی تھی۔ مگر پولیس نے اسے کارروائی سے قبل ہی بیشہ کے مقام سے ایک مقابلے میں گرفتار کرلیا تھا۔ تیل پائپ لائن اور دیگر تنصیبات کو اڑانے کی سازش میں عاد المجماج اور خالد المالک کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ مگر المجماج کو مکہ مکرمہ میں وادی نعمان میں ہلاک کردیا گیا تھا تاہم اس کے دوسرے ساتھی خالد الماک کو بھی زندہ پکڑ لیا گیا ہے۔ المالک کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ تیل پائپ لاین دھماکے کے نتائج مرتب کرے۔

داعش نے سعودی عرب میں تیل کی جس تنصیب کو اڑانے کی سازش تیار کی تھی وہ نہایت اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ عرف عام میں اسے ’شرقا۔ غربا تیل پائپ لائن کہا جاتا ہے۔ یہ سعودی عرب میں تیل پروگرام کی اہم ترین تزویراتی تنصیب قرار دی جاتی ہے۔ اس تیل پائپ لائن سے خلیج عرب اور بحر احمر کے راستے تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔ تیل پائپ لائن میں متعدد مقامات پر تیل صاف کرنے والے کارخانے بھی قائم ہیں۔ تیل کی اس غیرمعمولی پائپ لائن سے یومیہ پانچ سے سات ملین بیرل تیل منتقل کیا جاتا ہے۔