.

جان کیری کی روس کے ساتھ شام پر مذاکرات منقطع کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فون پر شامی تنازعے کے حوالے سے بات چیت کی ہے اور انھیں خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے حلب پر حملے نہیں روکے تو واشنگٹن شامی تنازعے پر مذاکرات منقطع کردے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جان کیری نے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کو یہ بھی باور کرایا ہے کہ شام میں جہادی گروپوں پر حملوں کے لیے روس اور امریکا کے مشترکہ فوجی سیل کی تشکیل کا معاملہ بھی مؤخر کردیا جائے گا۔

ترجمان نے بتایا کہ ''امریکا شام کے بارے میں روس کے ساتھ دو طرفہ بات چیت اور روابط کو معطل کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ روس اگر حلب میں فوری طور پر حملوں کے خاتمے اور جنگی کارروائیوں کو روکنے کا عمل بحال نہیں کرتا ہے تو اس کے ساتھ کوئی گفتگو نہیں ہوگی''۔

انھوں نے کہا کہ '' سیکریٹری کیری نے شام کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔خاص طور پر انھوں نے حلب میں اسپتالوں ،پانی کی سپلائی کے نیٹ ورک اور شہری ڈھانچے کو روسی اور شامی فوج کی جانب سے نشانہ بنانے پر تشویش ظاہر کی ہے''۔

انھوں نے کہا:''سیکریٹری نے وزیر خارجہ لاروف پر واضح کردیا ہے کہ امریکا اور اس کے شراکت دار روس کو اس تمام صورت حال کا ذمے دار گردانتے ہیں۔شہری ماحول میں بنکر شکن بموں کے بلا تمیز استعمال سے شہری شدید خطرات سے دوچار ہوگئے ہیں۔اس لیے اب یہ روس کی ذمے داری ہے کہ وہ اس حملے کو رکوائے اور حلب اور دوسرے علاقوں تک انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائے''۔

جان کیری اور سرگئی لاروف شام میں گذشتہ ساڑھے پانچ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں کررہے ہیں اور ان کے درمیان 9 ستمبر کو شام میں متحارب فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک سمجھوتا طے پایا تھا لیکن یہ جنگ بندی صرف سات روز تک ہی برقرار رہ سکی تھی۔

اس دوران شام کے مشرقی شہر دیرالزور میں امریکا کی قیادت میں اتحاد نے شامی فوج کے ایک اڈے پر فضائی بمباری کردی تھی جس سے کم سے کم نوے شامی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔بعد میں امریکا نے کہا تھا کہ لڑاکا طیاروں نے داعش کے جنگجوؤں کے شُبے میں غلطی سے شامی فوجیوں پر بمباری کردی تھی۔

اس واقعے کے تین روز بعد اقوام متحدہ کے ترکی سے آنے والے ایک امدادی قافلے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔امریکا اور اس کے اتحادیوں نے روس اور شامی فوج پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا لیکن ماسکو اور دمشق نے اس سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔ اب روسی اور شامی لڑاکا طیارے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر گذشتہ چھے روز سے مسلسل بمباری کررہے ہیں جس سے شہریوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

جان کیری اور لاروف کے درمیان گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ تاہم دونوں نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ شامی تنازعے کے حل کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔