شمعون پیریز کی موت نے عباس اور نیتن یاہو کو ملا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعے کے روز بیت المقدس میں سابق اسرائیلی وزیراعظم شمعون پیریز کے جنازے کے موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس سے مصافحہ کیا۔

نیتنیاہو کے ترجمان نے ٹوئیٹر پر ایک وڈیو کلپ پوسٹ کیا ہے جس میں محمود عباس نیتین یاہو سے ہاتھ ملاتے ہوئے انگریزی زبان میں کہہ رہے ہیں کہ "طویل عرصے بعد آپ کو دیکھ کر مجھے مسرت محسوس ہو رہی ہے"۔ نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ نے محمود عباس کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

یاد رہے کہ دونوں شخصیات نے گزشتہ نومبر میں پیرس میں ماحولیات سے متعلق سربراہ اجلاس کے دوران مصافحہ کیا تھا تاہم دونوں کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

آخری مرتبہ ان دونوں کے درمیان اہم اور اعلانیہ ملاقات 2010 میں ہوئی تھی اگرچہ اس کے بعد خفیہ ملاقاتوں کے حوالے سے غیر مصدقہ رپورٹیں بھی ہیں۔

محمود عباس نے بدھ کے روز شمعون پیریز کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "وہ فلسطینی رہ نما یاسر عرفات کے ساتھ جرات مندانہ امن قائم کرنے میں شریک تھے"۔

اسرائیل کے سابق وزیراعظم شمعون پیریز بدھ کی صبح 93 برس کی عمر میں فوت ہو گئے تھے۔ انہیں فلسطینیوں کے ساتھ "اوسلو" معاہدے میں اہم کردار ادا کرنے پر امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔

پیریز اسرائیلی ریاست کی بانی نسل کی آخری شخصیات میں سے تھے۔ وہ 1993 میں طے پانے والے اوسلو معاہدے کے مرکزی منصوبہ ساز تھے تاہم وہ متعدد قتل عام کے بھی ذمہ دار رہے جب وہ 1948 میں ہگانا گروپ میں شامل تھے جو فلسطینیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے بے گھر ہونے اور قتل کر دیے جانے کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ 90ء کی دہائی میں لبنان کے جنوب میں قانا کا قتل عام بھی ان کے نام سے منسوب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں