مقامی، غیرملکیوں کے لیے سعودی عرب کے 5 انقلابی فیصلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں ماہ محرام الحرام اور ھجری سال 1438ء کے شروع ہوتے ہی مقامی اور غیر ملکی شہریوں کے معمولات زندگی یکسر تبدیل ہو گئے۔ یہ تبدیلی سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے کفایت شعاری کی پالیسی کے حوالے سے منظور کردہ بعض نئے قوانین اور اقدامات پرعمل درآمد کا نقطہ آغاز ہے جس کی شروعات 2 اکتوبر 2016 بہ مطابق یکم محرم الحرام 1438ھ کو ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی حکومت کی طرف سے کفایت شعاری کے حوالے سے منظور کردہ ان اقدامات اور نئے ضابطوں پر روشنی ڈالی ہے جن کے نفاذ سے نہ صرف مقامی سعودی باشندوں بلکہ مملکت میں مقیم غیرملکیوں کے معمولات بھی تبدیل کردیے ہیں۔

کل سے سعودی عرب میں نئی ویزہ پالیسی کا اعلان کیا گیا جس میں ویزوں کی فیس میں اضافہ کیا گیا۔ ٹریفک جرمانوں کے شیڈول میں بھی تبدیلی کی گئی اورجرمانوں کی ایک نئی فہرست کی بھی منظوری دی گئی۔

سعودی کابینہ کی جانب سے منظور کردہ حالیہ فیصلوں میں مملکت میں بعض شعبوں میں غیرملکی شہریوں کی ملازمت پر پابندی، تنخواہوں اور مراعات میں کمی، سالانہ بونس اور تنخواہوں میں اضافے پر پابندی جیسے اقدامات کی منظوری دی گئی۔ ان تمام فیصلوں کا نفاذ کل اتوار کے روز سے کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے پاسپورٹ نے ویزہ فیس، قیام کی فیس، وزٹ ویزہ فیس، داخلہ فیس اور دوبارہ واپسی فیسزکے حوالے سے شاہی فرمان نمبر 68 مجریہ 6 ذی الحج 1437ھ کو نافذ کردیا۔ اس فیصلے کے مطابق ویزہ فیسوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

پہلی بار سعودی عرب میں داخل ہونے کی فیس 2000 ریال ہے مگر پہلی بار حج یا عمرہ کرنے والے غیرملکی مسلمان شہری کی یہ فیس سعودی حکومت ادا کرے گی۔ دوسری بار حج یا عمرہ ادا کرنے پر 2000 ریال فیس ادا کرنا ہوگی۔

سعودی عرب اور دوسرے ملکوں کے درمیان پہلے سے طے پائے دو طرفہ معاہدوں میں بھی مذکورہ شق پر اپنایا جائے گا۔

وزٹ ویزہ کی فیس 300 ریال مقرر کی گئی ہے۔

خروج اور دوبارہ سعودیہ میں واپسی کی فیس یوں ہوگی۔

کم سے کم دو ماہ کے ایک وزٹ کے لیے 200 ریال فیس ہوگی۔ اس کے بعد ہر ایک ماہ ویزے کی مدت تک 100 ریال ماہانہ فیس رکھی گئی ہے۔

تین ماہ کے سفر کے لیے واپسی فیس 500 ریال اور ہرماہ بعد 200 ریال فیس ویزہ کی مدت تک وصول کی جائے گی۔

تن خواہیں قمری کے بجائے شمسی مہینوں میں

سعودی عرب میں سرکاری شعبے میں لائی جانے والی تبدیلیوں میں ایک اہم تبدیلی تنخواہوں میں کمی کے ساتھ ان کا قمری کے بجائے شمسی مہینوں میں ادائی شامل ہے۔ آئندہ سعودی عرب میں ملازمین کو تنخواہیں ھجری سال کے مہینوں کے حساب سے نہیں بلکہ عیسوی سال کے مہینوں کے حساب سے ادا کی جائیں گی۔ مملکت کی سطح پر دیگر مالیاتی لین دین بھی قمری کے بجائے شمسی مہینوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب میں سرکاری محکمے کے ملازمین کی سالانہ تعطیلات بھی کم کر دی گئی ہیں۔ ملازمین 60 یوم میں استحقاقی تعطیلات کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے بعد وہ چھٹی کے لیے درخواست نہیں دے سکتے۔ اگر کوئی ملازم سابقہ شیڈول پرعمل کرنا چاہیے تو وہ سالانہ 36 دن کی تعیطلات کر سکتا ہے جو کہ سابقہ شیڈول سے کم ہیں۔

چھٹیوں کے قانون میں ملازمین کو تعطیلات کے دوران آمد ورفت کے لیے دی گئی مالی مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔ البتہ سرکاری نظام الاوقات سے ہٹ کراضافی گھنٹے کام کرنے والے کو مالی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اضافی وقت کی اجرت بنیادی تنخواہ کا 25 فی صد ہوگی جب کہ تعطیلات کے ایام میں بنیادی تنخواہ کے50 فی صد کے مساوی بونس دیا جائے گا۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو مالی سال کے دوران 30 دن سے زاید رخصت کی اجازت نہیں ہوگی۔

تعطیلات ، تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے منظور کردہ مذکورہ ضوابط کا اطلاق مقامی سعودی باشندوں اور غیرمقامی افراد پر بھی ہو گا۔

تمام ملازمین کی کارکردگی پر پرگہری نظر رکھی جائے گی اور کسی کو کام چوری کی اجازت نہیں ہو گی۔ اگر محکمہ کسی سرکاری ملازم کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہو تو اسے تحریری وارننگ دی جائے گی۔ اگر وہ اپنی اصلاح نہ کرے تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی اور تیسرے سال بھی اس کی کارکردگی تسلی بخش نہ ہوئی تو اسے نوکری سے فارغ کرنے کے لیے کیس متعلقہ کمیٹی کو بھجوایا جائے گا۔

تمام ملازمین کو ان کے متعلقہ کام کے لیے سال کے شروع میں اہداف بتا دیے جائیں گے اور سال کے آخر میں ان اہداف پر ہونے والے کام کا جائزہ لیا جائے گا۔

سرکاری سطح پر کیے گئے فیصلوں میں 21 نوعیت کے بونسز اور الائونسز ختم جب کہ 23 اقسام کے الاؤنسز میں ترامیم کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں