.

خامنہ ای نے جنگ کو شام اور یمن منتقل کیا : ایرانی کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک اہم سابق کمانڈر اور تہران میں عسکری یونی ورسٹی کے استاد کرنل احمد غلام پور کا کہنا ہے کہ عراق کے ساتھ جنگ درحقیقت ایران عراق کی جنگ نہیں تھی جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں.. بلکہ "خمينی" کی ہدایات کے مطابق اس کا مقصد عراقی سرحد کے باہر اہداف کو حاصل کرنا تھا۔ فارس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے باور کرایا کہ ایرانی اسلامی انقلاب کی کوئی متعین حدود نہیں ہے۔

ایرانی کرنل نے کہا ک تمام فوجی تجزیہ کاروں کے نزدیک " دفاع کا بہترین طریقہ حملہ کر دینا ہے" اسی بنیاد اور مرشد اعلی (خامنہ ای) کی وضع کردہ حکمت عملی کے تحت ہم نے دشمن کے ساتھ اپنی لڑائی کو شام ، لبنان ، عراق ، یمن ، افغانستان اور پاکستان منتقل کیا"۔ غلام پور نے مزید کہا کہ مرشد اعلی کی منصوبہ بندی کے فضل سے تہران دشمن کے ساتھ مقابلے کو اسلامی انقلاب کے مرکز ایران سے ہزاروں کلومیٹر دور کر دینے میں کامیاب ہوا۔

انہوں نے کہا کہ " ایرانی عوام جس امن و امان کی نعمت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں یہ ہماری اس خدمت کے طفیل ہے جس کے تحت ہم نے دشمن کو اپنی سرحدوں سے دور بھگایا اور اس کے ساتھ جنگ کو بھی اپنی سرحدوں سے باہر رکھا"۔ تاہم کرنل صاحب یہ بھول گئے کہ ان جنگوں کے نتیجے میں مذکورہ ممالک تباہ ہو گئے ، اس میں سکونت پذیر افراد بے گھر ہو گئے اور لاکھوں شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے.. شاید یہ ہی ایرانی انقلاب کے نعرے کی خدمت ہے۔

اسلامی انقلاب سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتا

کرنل احمد غلام پور نے اپنی گفتگو میں "خمینی" انقلاب کے توسیعی منصوبے پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ "ایرانی نظام کے اندر بعض حلقوں نے انقلاب کے مفہوم کی حقیقت کو نہیں جانا۔ یہ لوگ ایران کی سرحدوں کے اندر کام کرنے پر زور دیتے رہے۔ اسی طرح یہ لوگ انقلاب کے مقاصد اور عراق کے ساتھ جنگ کے دوران لگائے جانے والے ایرانی نعرے (جنگ.. کامیابی تک جنگ) کو بھی حقیقی معنوں میں نہیں سمجھ پائے"۔

ایرانی فوجی کرنل نے واضح کیا کہ اصلاح پسندوں کی جانب سے ایران میں بلند کیا جانے والا بدترین نعرہ یہ ہے "نہ ہی غزہ نہ لبنان ، ایران پر میری روح قربان".. اس لیے کہ یہ نعرہ اسلامی انقلاب کی فکر سے متصادم ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ ایرانی فوج اور پاسداران کے بجٹ میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ ساتھ غلام پور نے ان حلقوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو بجٹ کا رخ ترقی کی جانب موڑنا چاہتے ہیں۔