شامی باغیوں کا درعا میں ایک اسکول پر راکٹ حملہ، پانچ بچے جاں بحق
شام کے جنوبی شہر درعا میں باغیوں کی جانب سے چلایا گیا ایک راکٹ ایک اسکول کی عمارت پر گرا ہے جس کے نتیجے میں پانچ بچے جاں بحق ہوگئے ہیں۔
شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی ہے کہ ''درعا کے علاقے آل صحاری میں واقع ایک پرائمری اسکول پر دہشت گردوں (باغیوں) کی گولہ باری سے پانچ بچے مارے گئے ہیں اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں''۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بھی اسکول پر منگل کے روز ایک راکٹ حملے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ اس حملے میں چھے افراد مارے گئے ہیں اور پچیس زخمی ہوئے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے کیونکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ مشرقی صوبے درعا کے بیشتر علاقوں پر باغیوں کا قبضہ ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت کے زیادہ تر حصوں پر شامی حکومت کا کنٹرول ہے۔درعا کو صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت تحریک کا ابتدائی مرکز بھی قرار دیا جاتا ہے۔
یہیں سے ان کے خلاف مارچ 2011ء میں عوامی احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا اور ان احتجاجی جلسے جلوسوں نے مظاہرین کے خلاف شامی فورسز کی جانب سے طاقت کے بے مہابا استعمال کے ردعمل میں پانچ چھے ماہ کے بعد ہی ایک مسلح تحریک کی شکل اختیار کر لی تھی اور اب گذشتہ پانچ سال سے شام میں جنگ جاری ہے۔