سعودی سفارت خانے پر حملے کا ایرانی ماسٹر مائنڈ کیوں رہا کیا گیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایران میں اصلاح پسندوں کے نزدیک سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ میں حسن کرد میہن کی رہائی کی خبریں گردش میں ہیں۔ میہن جنوری میں تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے اور اس کو آگ لگانے کی کارروائی کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق میہن نے چند روز قبل عاشورے کے حوالے سے مجالس میں شرکت کی تھی اور دارالحکومت تہران کی ایک مسجد میں خطبہ بھی دیا۔ اصلاح پسند گروپ کے زیر انتظام ویب سائٹ "اصلاحات نيوز" کے مطابق سخت گیر مذہبی شخصیت حسن کرد میہن نے گزشتہ ہفتے دس محرم کی مجالس میں شرکت کی اور اس کو مالی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسين محسنی ایجئی نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ سعودی سفارت خارنے پر حملے کے الزام میں حراست میں لیے جانے والے تمام 154 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد کو واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں ہونے والی ٹال مٹول اور معاملے کے بارے میں متضاد اور گمراہ کن معلومات نشر کرنے سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ایرانی حکام 2 جنوری کو سفارت خانے پر دھاوا بولنے والے حملہ آوروں کی شناخت کو چھپا رہی ہے جنہوں نے سفارت خانے کی عمارت میں آگ لگا دی تھی۔ اس لیے کہ ملوث افراد کا تعلق ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جانے والے پریشر گروپوں سے ہے۔ اس بات کا انکشاف ایرانی اصلاح پسند ذرائع نے کیا ہے۔

ایران کو سعودی عرب کی جانب سے اس نوعیت کے فیصلہ کن ردعمل کی ہر گز توقع نہ تھی جس نے ایران کو انتہائی مشکل گومگو حالت میں پہنچا دیا۔ خاص طور پر عالمی برادری کی جانب سے شدید مذمتوں اور عرب ممالک کی جانب سے تہران کے سفارتی بائیکاٹ کے بعد.

حسين كرد ميہن سعودی سفارت خانے پر حملے کی منصوبہ بندی اور باسیج اور پاسداران انقلاب کے "حزب اللہ کے انقلابی فرزندان" کو اکسانے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ میہن نے رواں سال اگست میں ایرانی صدر حسن روحانی کے نام ایک کھلے خط میں حکومت کی جانب سے "ساز باز" پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "حملے میں حکومت کی ملی بھگت بالکل واضح ہے۔ حکومت چاہتی تو دھاوا بولنے والوں کو روک سکتی تھی۔ حملہ آور نوجوان توقع کر رہے تھے کہ انہیں سکیورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے زدوکوب کیا جائے گا"۔

"انصاف نيوز" کی جانب سے خط کے جاری کیے گئے متن کے مطابق میہن نے تسلیم کیا کہ اس نے "ٹیلی گرام" ایپلی کیشن کے ذریعے اپنے عناصر کو احکامات جاری کیے جب کہ وہ خود شامی اپوزیشن کے خلاف لڑائی کے محاذوں پر پاسداران انقلاب کی صفوں میں موجود تھا۔ خط میں حملے کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے تساہل کی جانب بھی اشارہ کیا گیا جس نے میہن کے قریبی عناصر کا حوصلہ بڑھا دیا۔

کرد میہن نے ایرانی صدر حسن روحانی کو ذاتی طور پر سفارت خانے پر دھاوے اور اس میں آگ لگائے جانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ "اگر وہ قریب آنے سے روکنا چاہتے تو مظاہرین کو سفارت خانے سے کئی کلومیٹر دور روکا جاسکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا"۔

یاد رہے کہ ایران نے سفارت خانے پر حملے کے دو ہفتے بعد حسن كرد میہن کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم دو روز بعد ہی اس کی رہائی کا اعلان سامنے آگیا.. جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ میہن کی حراست یا گرفتاری سرے سے ہوئی نہیں۔
حسن کرد میہن کون ہے ؟
حسن کرد میہن کا تعلق تہران کے جنوب مغرب میں واقع شہر کرج میں "انصار حزب اللہ" ملیشیاؤں سے ہے۔ یہ گروپ ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے کافی نزدیک سمجھا جاتا ہے۔ یہ گروپ 2009 میں سبز تحریک کی جانب سے کیے جانے والے واحتجاجوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں بھی شریک تھا۔

میہن 2013 کے صدارتی انتخابات میں تہران کے حالیہ میئر محمد باقر قالیباف کی انتخابی مہم کے منتظمین میں سے بھی تھا۔

اس کے علاوہ حسن کرد میہن "نور معرفت" نامی ادارے سمیت ایرانی حکومت میں با اثر شخصیات کے نزدیک سمجھے جانے والے 9 دیگر اداروں کی سربراہی بھی کررہا تھا۔

میہن شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی صفوں میں شامل ہوکر لڑائی میں شریک ہو چکا ہے۔ وہ جوڈو کے کھیل کا کوچ بھی رہ چکا ہے۔ اس نے ایران اور شام کی جوڈو ٹیموں کی مشترکہ تربیت کی نگرانی کی۔
حملہ آوروں کی شناخت
ایرانی اصلاح پسند رہ نما مہدی کروبی کے نزدیک شمار کی جانے والی نیوز ایجنسی "سحام نيوز" یہ انکشاف کر چکی ہے کہ سفارت خانے پر دھاوا بولنے والوں کا تعلق ایران میں "ایرانی حزب الله" کے نام سے جانی جانے والی ملیشیاؤں سے ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ہی حملے کے بنیادی کردار ہیں۔ واقعے کے روز ایک گروپ تہران کے شمال مشرق میں واقع "مهتدی شہید مرکز" ("شهيد محلاتی" فوجی علاقے میں پاسداران انقلاب کا ایک صدر دفتر) سے سفارت خانے پر حملے، اس کو نذر آتش کرنے اور سامان کو لوٹنے کے مشن پر نکلا۔ یہ چیز ایرانی مرشد اعلیٰ اور حکومت کے دعوؤں کو غلط ثابت کرتی ہے جو حملے کے سلسلے میں "قانون کی دسترس سے باہر" یا "خفیہ طور پر درانداز" عناصر کو ملامت کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

"سحام نيوز" کے مطابق حملہ آور گروپ میں شامل ایک شخص نے بتایا ہے کہ "باسیج فورس کے ارکان سعودی سفارت خانے پر حملے کے لیے فورس کے ایک صدر دفتر میں جمع ہوئے.. وہاں سے انہیں کارروائی پر عمل درامد کے لیے بھیجا گیا۔ ان افراد کے پاس دستی اور پیٹرول بموں کو فائر کرنے کے لیے خصوصی ہتھیار بھی تھے جن کے ذریعے سفارت خانے کی عمارت میں آگ لگا دی گئی"۔

اسی ذریعے کے مطابق "باسیج فورس کے حملہ آور ارکان نے سفارت خانے کا سامان لوٹ کر عمارت کے باہر پہنچا دیا. اگرچہ سفارت خانے کا عملہ اہم دستاویزات کو اپنے ساتھ باہر لے آیا تھا جب کہ کم اہم کاغذات کو عمارت میں ہی چھوڑ دیا گیا. باسیج کے ارکان عمارت کے اندر سے کمپیوٹر، لیپ ٹاپس، موبائل فون اور دیگر انتظامی امور کی اشیاء لے کر مال غنیمت کے طور پر اپنے گھروں کو لے گئے"۔

1

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں