حوثیوں کی مہربانی.. اساتذہ "بوٹی "فروخت کرنے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں باغی حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے عوام کے خلاف ہتھکنڈوں اور جرائم کا سلسلہ کسی طور تھمنے میں نہیں آ رہا۔ صورت حال اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ مالیاتی ادارے دس لاکھ سے زیادہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے قاصر ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے افراد گھر کا چولہا جلائے رکھنے کے واسطے دیگر پیشوں کا رخ کر رہے ہیں جن میں "قات" (ایک نشہ آور بوٹی) کی فروخت بھی شامل ہے۔

تجزیہ کاروں نے تعلیم کے شعبے سے متعلق بعض افراد کے قات کی فروخت کو اپنانے کے ہتک آمیز رجحان کو محمد علی الحوثی سے متعلق یمنی عوام میں پھیلے ہوئے لطیفوں اور خاکوں سے مربوط کیا ہے۔ محمد علی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ باغیوں کی جانب سے نام نہاد سپریم انقلابی کونسل کا سربراہ مقرر کیے جانے سے قبل وہ قات بوٹی فروخت کرتا تھا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سیاسی تجزیہ کار ماجد علی کا کہنا تھا کہ "ایسا لگتا ہے کہ ملیشیاؤں کی قیادت کے ساتھ یمنیوں کے مذاق سے غضب ناک ہو کر حوثیوں نے تعلیم کے شعبے کی شخصیات اور ملازمین سے انتقام لینے کی ٹھان لی.. اور یہ لوگ ملیشیاؤں کی پیدا کردہ بدترین معاشی صورت حال کے نتیجے میں قات فروخت کرنے کے غیر شایان شان پیشہ اپنانے پر مجبور ہوگئے"۔

جامعہ صنعاء میں عمرانیات کے پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ الحکیمی کا کہنا ہے ک انہوں نے مسلسل دوسرے ماہ تنخواہ کی وصولی میں تاخیر ہونے پر قات بوٹی کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔

حوثیوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں تیل کی غیر ملکی کمپنیاں کام روک کر یمن سے کوچ کر گئیں۔ اس کے نتیجے میں تیل کی تلاش کے شعبے سے متعلق انجینئر محمد علوان صنعاء میں قات کی فروخت کے بازار میں ایک چھوٹی سی دکان لے کر تقریبا نو ماہ سے اس نشہ آور بوٹی کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

بدھ کے روز سوشل میڈیا پر زیر گردش تصویر میں ایک اسکول کا نائب پرنسپل "ابلے ہوئے انڈے" فروخت کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ تصویر پر ایک تبصرے میں کہا گیا ہے کہ "آج یہ اسکول کا نائب پرنسپل سڑک پر انڈے فروخت کر رہا ہے.. کل اسکولوں کے پرنسپل اور اساتذہ تدریس کا عمل چھوڑ کر قات اور آئس کریم کی فروخت میں لگ جائیں گے"۔

جامعہ صنعاء میں فلسفے کے پروفیسز ڈاکٹر جمیل عون کے دوستوں نے فیس بک پر ان کی تصاویر نشر کی تھیں جن میں وہ تنخواہوں کی ادائیگی رک جانے کے بعد بلاک تیار کرنے والے ایک کارخانے میں یومیہ اجرت پر کام کرتے نظر آرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں