حلب کے مغربی حصے پر باغیوں کے جوابی حملے میں بیسیوں افراد ہلاک
شام کے شمالی شہر حلب میں باغی گروپوں نے حکومت کے زیر قبضہ مغربی حصے پر بھرپور جوابی حملہ کیا ہے اور ان کی جوابی کارروائی میں گذشتہ آٹھ روز کے دوران چوہتر شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ان میں پچیس بچے ہیں۔
حزب اختلاف کے جنگجوؤں نے 28 اکتوبر کو صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے زیر قبضہ حلب کے مغربی حصے پر حملے کا آغاز کیا تھا۔اس کا مقصد سرکاری فورسز سے مشرقی حلب کی ناکا بندی ختم کرانا ہے۔باغی جنگجوؤں نے اس نئے حملے کے آغاز کے بعد سے مغربی حصے کی جانب پیش قدمی کی ہے۔انھوں نے شہر کے علاقے اسد اور ایک گاؤں منیان پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ حکومت نواز فورسز ان پر دوبارہ کنٹرول کے لیے باغیوں سے لڑ رہی ہیں۔
شامی فوج کا کہنا ہے کہ باغیوں کے حملے کے پہلے تین روز کے دوران 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن اس کے اس بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔انسانی حقوق کے گروپوں اور اقوام متحدہ نے باغیوں کی حلب کے مغربی علاقوں پر بلاامتیاز گولہ باری پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے نتیجے میں متعدد شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
باغیوں کے اس حملے سے قبل شہر کے مشرقی حصے پر اسدی فوج اور اس کے اتحادی روس کے طیاروں کی ایک ماہ تک فضائی بمباری میں چار سو سے زیادہ شہری ہلاک اور کم سے کم دو ہزار زخمی ہوگئے تھے۔ شامی اور روسی طیاروں نے ایک اسکول اور متعدد طبی مراکز کو بھی اپنے فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر حملوں میں تین شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے۔ روس نے محاصرہ زدہ مشرقی حلب پر 18 اکتوبر کو فضائی حملے روکنے کا اعلان کیا تھا لیکن شہر کے اس حصے اور دیہی علاقوں پر نئے فضائی حملوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔
روس نے جمعے کو دس گھنٹے کے لیے فضائی حملے روکنے کا اعلان کیا تھا لیکن حلب کے مشرقی حصے سے شہری باہر نکلے ہیں اور نہ ان کا انخلاء شروع کرایا جا سکا ہے اور اب اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ روسی اور شامی طیارے مشرقی حلب میں دوبارہ نئے انتقامی فضائی حملے شروع کرسکتے ہیں۔ تاہم ہفتے کی سہ پہر تک کسی نئے حملے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
تاہم شامی کارکنان نے صوبہ حلب کے دیہی علاقوں میں باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔ باغیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبہ ادلب کے نزدیک حلب کے مغربی علاقے میں شدید بمباری کی گئی ہے اور اس کا مقصد ان کی سپلائی لائن کو منقطع کرنا ہے۔
مغربی حلب پر حملے میں مختلف باغی گروپوں پر مشتمل اتحاد جیش الفتح پیش پیش ہے۔اس گروپ میں القاعدہ سے وابستہ فتح الشام محاذ بھی شامل ہے۔یہ دوسرا موقع ہے باغی گروپوں نے اسدی فوج کا محاصرہ توڑنے کے لیے بھرپور حملہ کیا ہے۔ قبل ازیں انھوں نے اگست میں حملہ کیا تھا اور بہت سے علاقوں کو آزاد کرا لیا تھا مگر اس کو شامی فوج نے چند ہفتوں کے بعد ہی روس کی فضائی مدد سے پسپا کردیا تھا اوراس نے مشرقی حلب کی دوبارہ ناکا بندی کردی تھی۔