.

حلب میں ایرانی ٹیلی وژن کا سینئر رپورٹر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری ٹی وی کا ایک سینئر شام کے شہر حلب میں ہلاک ہو گیا ہے۔ ایرانی نیوز ایجنسی "اِرنا" کے مطابق محسن خزائی ہفتے کے روز ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کی شامی اپوزیشن کے ساتھ جھڑپوں کی کوریج کے دوران مارا گیا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ حلب کے مشرقی حصے موجود خزائی کو مارٹر گولہ لگا۔

یاد رہے کہ ایرانی میڈیا کی مشینری نے شام میں ایرانی مداخلت کی حقیقت کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈے اور واقعات کی غلط بیانی میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اس دوران مذکورہ مداخلت کو "مشاورت" قرار دیتے ہوئے "شیعوں کے مقدس مقامات کے تحفظ" کو حجت بنایا گیا جبکہ شامی اپوزیشن کے تمام عناصر کو "دہشت گردی" سے متصف کیا گیا اور تمام انقلابیوں کی "تکفیر" کی گئی۔

اس کے علاوہ ایرانی میڈیا شام میں ایرانی فورسز اور شیعہ ملیشیاؤں کی مداخلت کو "داعش" کے خلاف جنگ قرار دے رہا ہے جب کہ درحقیقت ان فورسز نے 2012 میں شامی عوام کی پر امن انقلابی تحریک کو کچلنے کے ساتھ اپنی مداخلت کا آغاز کیا اور پھر اعتدال پسند شامی اپوزیشن گروپوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔ جہاں تک داعش تنظیم کے ساتھ جھڑپوں کا تعلق ہے تو شاید ہی کبھی اس کا موقع آیا ہو۔

ایرانی ٹی وی کی جانب سے جعل سازی کی بدترین اور شرم ناک مثال رواں سال فروری میں نشر کیا جانے والا وڈیو کلپ تھا جس میں "حزب الله" ملیشیا کے جنگجو کو داعش تنظیم کے عناصر ہلاک کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ بعد ازاں ظاہر ہوا کہ اس کلپ کا ذریعہ 2010 میں تیار ہونے والا وڈیو گیم "میڈل آف آنر" تھا۔

ایرانی میڈیا کی جعل سازی کے دیگر نمونوں میں ایرانی اخبار "صبحِ نو" کا شام میں جنگ کا شکار افراد کی تصاویر کے ساتھ کھلواڑ شامل ہے۔ اخبار نے ان تصاویر کو دیگر اخباری رپورٹوں کے لیے استعمال کیا۔ ان میں بعض تصاویر کو بغداد میں ہونے والے ایک دھماکے سے منسوب کر دیا گیا جب کہ درحقیقت وہ شام کے شہر ادلب میں شہریوں پر بشار الاسد کے طیاروں کی بم باری کی تصاویرتھیں۔ ۔

اسی طرح ایرانی میڈیا نے شام کے حوالے سے بین الاقوامی اور عرب ذمے داران کی تقاریر میں تحریف کی جن میں اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل بان کی مون اور جنرل اسمبلی کے سربراہ ناصر عبدالعزیز شامل ہیں۔

اپریل 2016 میں ایرانی ٹیلی وژن نے ایک اشتہاری ٹیپ نشر کیا جس میں شام اور عراق میں مقامات مقدسہ کے دفاع کے واسطے بچوں کو بھرتی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔