عراقی فوج اور اتحادی طیاروں کی بمباری میں 54 داعشی جنگجو ہلاک
داعش موصل میں تعاون نہ کرنے والے شہریوں کو ہلاک کررہے ہیں: اقوام متحدہ
عراق کے شمالی شہر موصل کے جنوب میں سرکاری فوج کی گولہ باری اور فضائی حملوں میں داعش کے 54 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے شہر کے مشرق میں داعش کی بارود سے بھری چار کاروں کو تباہ کردیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ داعش کے جنگجو موصل میں تعاون نہ کرنے والے شہریوں کو ہلاک کررہے ہیں۔وہ اپنے گھروں میں راکٹ لے جانے یا ماہر نشانہ بازوں کو داخل ہونے کی اجازت نہ دینے والے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ عراقی فوج کے مخبر ہونے کے شُبے میں بھی لوگوں کو ہلاک کررہے ہیں۔
ترجمان روینہ شامداسانی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی معمول کی بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ 11 نومبر کو داعش نے مبینہ طور پر موصل کے مشرقی علاقے بکرمیں بارہ شہریوں کو ہلاک کردیا تھا۔ان کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے اپنے گھروں کی چھتوں پر راکٹ نصب کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔
اقوام متحدہ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جنگجوؤں نے موصل کے شمال میں واقع مہندسین پارک میں 25 نومبر کو ستائیس شہریوں کو سرعام گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔اس سے پہلے 22 نومبر کو داعش کے ایک جنگجو نے عراقی سکیورٹی فورسز کی جانب جانے والے ایک سات سالہ بچے کو فائرنگ کرکے موت کی نیند سلا دیا تھا۔
درایں اثناء عراقی فورسز نے نینویٰ کے میدانی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے داعش کو نکال باہر کیا ہے۔موصل میں عراقی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالعامر یار اللہ نے کہا ہے کہ موصل سے داعش کو پاک کرنے تک کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
عراقی فوج کی انسداد دہشت گردی فورس کے ایک اور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل عبدالغنی الاسدی کا کہنا ہے کہ عوام کے تعاون کی وجہ سے وہ موصل کے نواحی علاقوں میں کنٹرول بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ موصل کے محاصرے کے بعد غریب خاندان سخت مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے ان کے لیے جینا دوبھر ہوگیا ہے۔
عراقی حکومت اور کرد فورسز نے موصل شہر کا شمال ،مشرق اور جنوب کی جانب سے محاصرہ کررکھا ہے جبکہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی مغرب کی جانب سے شہر کو بند کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔گذشتہ ہفتے الحشد الشعبی نے شام سے موصل کی جانب آنے والی شاہراہ کو منقطع کردیا تھا۔یہ داعش کے لیے سامان رسد پہنچانے کی واحد گذرگاہ تھی۔اب شہر میں سامان رسد پہنچانے کے تمام راستے منقطع یا مسدود ہوچکے ہیں۔