.

ڈاکٹر سامیہ.. سرطان کو شکست دینے والی سعودی خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی خاتون سامیہ بنت محمد العمودی کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ سرطان جیسے موذی مرض سے لڑنے والی ہمت و عزیمت کا پیکر سامیہ درحقیقت مشکلات کو چیلنج کرنے کا دوسرا نام ہے۔ وہ بنیادی طور پر خود ایک گائناکالوجسٹ ہیں اور انہیں اپنے پیشے سے عشق ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے عشق سے دست بردار ہو کر خود کو زیادہ بڑے مقصد کے لیے فارغ کر لیا اور وہ ہے چھاتی کا سرطان.. جی ہاں وہ خود اس نوعیت کے سرطان سے دو مرتبہ بچی ہیں۔ اب وہ معاشرے میں صحت سے متعلق امور بالخصوص چھاتی کے سرطان کے حوالے سے آگاہی کی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔ ڈاکٹر سامیہ جدہ میں کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی میں میڈیکل کالج میں پروفیسر بھی ہیں اور اس کے علاوہ چھاتی کے سرطان کے حوالے سے دیکھ بھال کے خصوصی مرکز "الشیخ محمد حسن العمودی سینٹر" کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ سامیہ نے دو کتابیں بھی تالیف کی ہیں۔

سرطان کے خلاف جنگ

ڈاکٹر سامیہ نے "العربیہ" ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں ان خاص مواقع کا ذکر کیا جنہوں نے ان کی زندگی کا رخ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ بچپن میں ہی والد کے سائے سے محروم ہو گئیں، جوان ہو کر رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں ، ماں بننے کے خواب میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ، کئی برس کے انتظار کے بعد اللہ نے ان کو بیٹا عبداللہ اور پھر بیٹی اِسراء سے نوازا۔ سال 2006 میں وہ پہلی مرتبہ چھاتی کے سرطان سے متاثر ہوئیں اور پھر جنوری 2015 میں دوبارہ اس مرض نے ان پر حملہ کیا۔ اس کے بعد سے سامیہ نے اس مرض کے خلاف جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔

سامیہ کے مطابق ان کی کتاب "ایک سعودی خاتون کی یادداشتیں" کئی سالوں کی محنت کا ثمرہ ہے۔ اس کتاب کے ذریعے انہوں نے اپنی زندگی کا خلاصہ نئی نسل تک پہنچایا ہے۔ بالخصوص اس میں خواتین کے واسطے صبر اور عزم و استقلال کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر سامیہ تحریر و تالیف کی دیوانی ہیں۔ وہ پابندی کے ساتھ عربی روزناموں میں کالم نویسی کر چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے کالموں کے ذریعے بھی چھاتی کے سرطان کے حوالے سے تجربات اور آگاہی کے امور پر روشنی ڈالی۔

ایوارڈ مقصد کے واسطے زوردار گھنٹی ثابت ہوا

اپنے ایوارڈ کے حوالے سے ڈاکٹر سامیہ کا کہنا ہے کہ " یقینا مجھے اس کی بے پناہ مسرت ہے۔ اہم ترین امر یہ ہے کہ یہ میرے زندگی کے مقصد کے لیے ایک گھنٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میری آواز اور میرا مسئلہ سرحدوں سے باہر تک پہنچے گا۔ تاہم واقعتا ایسا ہوا اور میں پہلی عرب خاتون بن گئی جس کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں سالانہ International Women of Courage Award سے نوازا گیا۔ مارچ 2007 میں یہ ایوارڈ میں نے سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس سے وصول کیا۔

میں وہائٹ ہاؤس میں بھی داخل ہوئی جہاں سابق امریکی صدر جار بش ، ان کی اہلیہ لورا بش اور جو بائڈن سے ملاقات کی۔ یہ سب بطور سعودی خواتین اور سرطان کے مسئلے کے حوالے سے ہمارے لیے ایک اعزاز تھا"۔

اچھا نمونہ بننا

سامیہ کے مطابق وہ سوچا کرتی تھیں کہ کاش ان کی کہانی خواتین کے لیے اثر انگیز ثابت ہو۔ اب وہ اس بات کو اعزاز کا باعث سمجھتی ہیں کہ وہ نئی نسل کے لیے ایک نمونہ ہیں جو اس نسل کے اندر سماجی اور طبی آگاہی کو پھیلانے میں دن رات ایک کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر سامیہ کے مطابق سوشل میڈیا آگاہی کے واسطے ان کے لیے مفید ترین آلہ کار ہے۔ وہ ٹوئیٹر کے ذریعے اس ذمے داری کو سرانجام دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی اور طبی امور کے حوالے سے بھی بھرپور طریقے سے سرگرم ہیں۔

بچے اور مرد

اپنے بچوں کے طب کا شعبہ اختیار کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر سامیہ کا کہنا تھا کہ " طب کا شعبہ کوئی میراث نہیں اور اس میں صرف وہ ہی کامیاب ہوتا ہے جو محبت کے ساتھ اس سے وابستہ ہو۔ میرا کردار صرف رہ نمائی کا تھا ، میں نے ان پر کوئی چیز لازم نہیں کی"۔

سامیہ کے مطابق عورت کی زندگی میں مرد کا ہونا ضرورت ہے تاہم مرد کے نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ سب کچھ ختم ہو گیا۔

سامیہ العمودی کا سوانحی خاکہ

ڈاکٹر سامیہ العمودی کی پیشہ ورانہ زندگی متعدد اہم مقامات کی حامل ہے۔ وہ اس وقت جدہ میں کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی میں "شیخ محمد حسین العمودی سینٹر آف ایکسیلنس اِن بریسٹ کینسر" کی بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ، یونی ورسٹی کے میڈیکل کالج میں پروفیسر اور خواتین ، زچگی اور بانجھ پن سے متعلق امراض کی کنسلٹنٹ ہیں۔

وہ پہلی خلیجی خاتون ہیں جن کو جنیوا میں انسداد سرطان کے بین الاقوامی اتحاد کی مجلس عاملہ میں منتخب کیا گیا۔ وہ جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی میں چھاتی کے سرطان سے متعلق تحقیق کی سائنسی چیئر کی سابق نگراں بھی رہ چکی ہیں۔ وہ 2013 میں عرب دنیا میں چھاتی کے سرطان سے متعلق پہلے ویب اخبار "وردی" جریدے کی بانی اور چیف ایڈیٹر بھی ہیں۔ وہ سعودی خواتین کے لیے طبی اختیارات عطا کیے جانے اور صحت سے متعلق حقوق کے لیے سرگرم کارکن بھی ہیں۔ وہ مقامی اخبارات میں کالم اور مضامین بھی لکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے چھاتی کے سرطان سے متاثر ہونے کے بارے میں ایک کتاب " خاموشی توڑ دو" بھی تحریر کی جو عربی اور انگریزی دو زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ فروری 2015 میں ان کی ایک اور کتاب "ایک سعودی خاتون کی یادداشتیں" اور جنوری 2016 میں نوجوان لڑکیوں کے طبی ، نفسیاتی اور سماجی امور سے متعلق بھی کتاب شائع ہوئی۔

ڈاکٹر سامیہ متعدد عملی اور انتظامی منصبوں کے علاوہ کئی اعزازی ذمے داریاں بھی سرانجام دے چکی ہیں۔ وہ چھاتی کے سرطان کے میدان میں عالمی سرگرم کارکن ہیں۔

سابق امریکی صدر جارج بش نے 15 جنوری 2008 کو اپنے مشرق وسطی کے دورے کے دوران ریاض میں ڈاکٹر سامیہ سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر بش نے چھاتی کے سرطان کے شعبے میں سامیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کے تشکر کا اظہار کیا۔

انہیں مارچ 2008 میں ایک امریکی طبی ادارے اور 2009 میں مملکت میں عسیر کے گورنر کی جانب سے بھی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر سامیہ کوArabian Business میگزین کی جانب سے 2012 سے 2015 تک مسلسل چار برس تک طاقت ور ترین عرب شخصیات کی سالانہ فہرست میں شامل کیا گیا۔