بہت زیادہ گرم "کافی" سرطان کا سبب بن سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

عالمی ادارہ صحت کی سرطان کی تحقیق سے متعلق ذیلی بین الاقوامی ایجنسی کے مطابق ایسی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے کہ کافی پینے سے سرطان کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ تاہم ساتھ ہی ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ "بہت زیادہ گرم" تمام ہی مشروبات سرطان کی وجہ بن سکتے ہیں۔

ماضی میں ایجنسی نے کافی کے متعلق یہ رائے پیش کی تھی کہ اس سے ممکنہ طور پر 2B ٹائپ کا سرطان ہوسکتا ہے مگر پھر اس رائے کو تبدیل کردیا گیا۔ تاہم دوسری جانب اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسری سائنسی دلیل اس بات کا حوالہ دیتی ہے کہ بہت زیادہ گرم مشروبات یعنی جن کا درجہ حرارت 65 ڈگری سینی گریڈ یا اس سے زیادہ ہو، ممکنہ طور پر غذائی نالی کے سرطان کو سبب بن سکتے ہیں۔ ان مشروبات میں پانی، کافی، چائے اور دیگر مشروبات شامل ہیں۔

ایجنسی کو یہ نتائج انسانوں اور جانوروں پر کی گئیں ایک ہزار سے زیادہ طبی تحقیقات پر نظرثانی کے بعد حاصل ہوئے ہیں۔ ناکافی دلائل کی بنا پر کافی کے سرطان کا سبب ہونے یا نہ ہونے کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب امریکا میں کافی کی نیشنل سوسائٹی کی جانب سے ایجنسی کے سابق موقف میں تبدیلی کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور اس کو "کافی پینے والوں کے لیے شان دار خبر" قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size